خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 138 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 138

۱۳۶ کے ساتھ ساتھ خلافت کے قیام کے لئے دو اور آراء بھی تھیں۔گویا یہ آراء تین حصوں میں بٹی ہوئی تھیں۔ایک رائے یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کے اہل بیت یا خاندان میں سے کوئی شخص آپ کا خلیفہ ہو کیونکہ وہ آپ کے منشاء کو بھی بہتر سمجھتا ہوگا اور صلیبی رشتہ کی وجہ سے وہ مؤمنوں کا پہلے سے ہی پسندیدہ اور محبوب ہوگا اس لئے اس کی اطاعت میں ہر فر دامت سرنگوں ہوگا۔یہ رائے دنیوی بادشاہتوں کے عام تصور پر مبنی تھی کہ ایک بادشاہ کے بعد جب اس کا بیٹا بادشاہ بنتا ہے تو وہ پہلے سے ہی تسلیم شدہ بادشاہ ہوتا ہے اور لوگ بغیر کسی تردد کے اس کی اطاعت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔عام دنیوی رواج کے پیش نظر بظاہر یہ رائے بھی ایک مخلصانہ سوچ تھی۔دوسری رائے یہ تھی کہ آنحضرت یم کے خلیفہ کے لئے اس کا اہلِ بیت یا اہلِ خاندان ہونا ضروری نہیں بلکہ جو اس منصب کا اصل حقدار ہو وہی آپ کا خلیفہ بنے۔یہ رائے حقیقی روحانی اسلامی تصوّرِ خلافت اور اس کے قانون انتخاب پر مبنی تھی۔بہر حال یہ دو خیال تھے جو ایک ہی وقت میں اس ماحول میں محسوس و مشہور تھے۔تیسری سوچ جس کا ذکر ابتداء میں ہو چکا ہے، اس کی بنیاد در حقیقت مذکورہ بالا دوسری رائے ہی ہے۔یعنی اختلاف یہ نہیں تھا کہ خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اختلاف یہ تھا کہ خلیفۃ الرسول کن لوگوں میں سے ہو۔گروہ انصار کا خیال تھا کہ وہ واجب الاطاعت امام اگر انصار میں سے ہو تو اسلام کے مفاد میں بہترین ثابت ہو سکتا تھا۔مہاجرین ایک اور عرفان کے پیش نظر یہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا مفاد اس میں ہے کہ آنحضرت دم کا خلیفہ مہاجرین میں سے ہو۔یہ روح تھی جو اُن آراء اور اختلاف آراء میں جلوہ گر تھی۔بسا اوقات ان کے اظہار میں بعض صحابہ سے اپنے مختلف معیار سوچ اور متفرق عوامل کی وجہ سے ایسے خیالات کا اظہار ہو جاتا تھا جو قبائلی یا نسلی امتیازات کی ملاوٹ والے تھے۔لیکن حیرت انگیز منظر یہ تھا کہ جب خلافت کا قیام ہو گیا تو مہاجر و انصار سب صحابہ نے اپنے ایسے خیالات کو پلک جھپکنے سے پہلے پس پشت ڈال دیا اور اپنے ایمان و عقیدت ،صدق و صفا اور اطاعت و وفا کو کامل طور پر خلیفہ وقت سے وابستہ کر دیا۔چنانچہ جب حضرت ابو بکر کی بیعت