خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 101 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 101

طاغوتی حملوں سے محفوظ و مصئون رکھتا ہے۔خلافت خدا داد ہدایت سے جماعت کے لئے راہنمائی کے سامان کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کے قائم کردہ ایک امام کے ہاتھ کے ساتھ اٹھنے والی اور اس کے ہاتھ کے گرنے کے ساتھ بیٹھ جانے والی جماعت نہ راہ سداد سے بھٹک سکتی ہے اور نہ ہی گمراہی کی تاریکی ان کے دلوں کو ڈھانپ سکتی ہے؟ کیونکہ يَدُ اللهِ فَوْقَ الْجَمَاعَةِ “ ( کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے ) کی نوید بھی اسی جماعت کے لئے ہے۔خلافت راشدہ اولیٰ کے زمانہ میں منافقوں نے جب خلافت پر نکتہ چینیاں شروع کیں اور خلافت کی قدرومنزلت کم کرنے کے لئے اوہام اور وساوس کا جال بچھا دیا تو ایک عظیم المرتبت صحابی حضرت حنظلہ الکاتب نے اس نعمت خداوندی کی ناشکری ہوتے دیکھی تو تعجب کے ساتھ فرمایا : عَجِبْتُ لِمَا يَخُوضُ النَّاسُ فِيْهِ يَرُوْمُوْنَ الْخِلَافَةَ أَنْ تَزُولاً وَلَوْ زَالَتْ لَزَالَ الْخَيْرُ عَنْهُمْ وَ لَاقَوْا بَعْدَهَا ذُلَّا ذَلِيْلًا وَكَانُوْا كَالْيَهُوْدِ أَوِ النَّصَارَى سَوَاءٌ كُلُّهُمْ ضَلُّوْا السَّبِيْلاً (الکامل فی التاریخ ابن اثیر حالات ذکر مقتل عثمان الناشر دار الكتب العلمیة بیروت) کہ مجھے تعجب ہوا ہے ان لوگوں پر جو خلافت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنارہے ہیں کہ یہ ختم ہو جائے۔اور اگر یہ ختم ہوگئی تو ہر بھلائی ان سے جاتی رہے گی اور اس کے بعد وہ ذلالت کی گہرائیوں میں جاگریں گے۔اور پھر وہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح ہو جائیں گے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ہی برابر کے گم کردہ راہ ہیں۔تاریخ اسلام گواہ ہے کہ حضرت حنظلہ الکاتب کی بصیرت افروز تنبیہہ سے روگردانی کرنے والوں نے جب خلافت کی قدر نہ کی تو ان کی مرکزیت ختم ہوگئی اور وہ منتشر ہو کر ان تمام عواقب سے دو چار ہوئے جن سے حضرت حنظلہ الکاتب نے آگاہ کیا تھا۔