خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 91
جس سے آخری زمانہ میں قیام توحید کی نوعیت کا عرفان ملتا ہے۔آپ فرماتے ہیں : باید دانست که صورت کعبہ بیچناں کہ مسجودصور اشیاء است ، حقیقت کعبه نیز مجود حقائق آں اشیاء است، وَأَقُولُ قَوْلًا عَجَباً لَمْ يَسْمَعْهُ أَحَدٌ وَمَا أَخْبَرَ بِهِ مُخْبِرٌ بِإِعْلَامِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَالْهَامِهِ تَعَالَى إِيَّايَ بِفَضْلِهِ وَ كَرَمِه آنکه بعد از هزار و چند سال از زمانِ رحلت آن سرورِ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الصَّلَوَاتُ وَ التَّحِيَّاتُ زمانی می آید، که حقیقت محمدی از مقام خود عروج فرماید و به مقام حقیقت احمدی نام یابد و مظہر ذات احد جال سلطانه گردد، و هر دو اسم مبارک بسمی متحقق شود، و مقام سابق از حقیقت محمدی خالی ماند تا زمانے کہ حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نزول فرماید، وعمل بشریعت محمدی نماید عَلَيْهِمَا الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْمَاتُ وَالتَّحِيَّات، درال وقت حقیقت عیسوی از مقام خود عروج فرموده بمقام حقیقت محمدی که خالی مانده بود استقرار کند ( مبدء و معاد مع اردو تر جمه نکته ۴۸ صفحہ ۷۹۔ناشر ادارہ مجددیہ ناظم آباد کراچی ۱۹۶۸ء) آپ کی اس تحریر کا ترجمہ جو اسی کتاب میں طبع شدہ ہے ، من وعن یہ ہے کہ : وو جاننا چاہئے کہ جس طرح کعبہ کی صورت چیزوں کی صورتوں کی مسجود ہے، اسی طرح حقیقت کعبہ ان چیزوں کی حقیقتوں کی مسجود ہے۔میں ایک عجیب بات کہتا ہوں، جو اس سے پہلے نہ کسی نے سنی اور نہ کسی بنانے والے نے بتائی، جو سبحانہ وتعالی نے اپنے فضل و کرم سے صرف مجھے بتائی اور صرف مجھ پر الہام فرمائی اور وہ بات یہ ہے کہ آں سرور کائنات علیہ وعلی آلہ الصلوات والتسلیمات کے زمانۂ رحلت سے ایک ہزار اور چند سال بعد ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ حقیقت محمدمی اپنے