خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 90 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 90

۸۹ کھڑے ہوں گے، وہ اسی منصوبہ کو لے کر آگے چلیں گے۔توحید کے قیام کے لئے جماعت کا، <mark>قوم</mark> کا ، امت کا ایک ہاتھ پر جمع ہونا ضروری ہے۔اس کے لئے تفرقہ ، اور افتراق ایک مہلک چیز ہے۔تفرقہ و افتراق کے اس خدشہ کو دور کرنے کے لئے آپ نے یہ تجویز فرمایا تھا کہ آپ کے وصال کے بعد جب تک کوئی خدا سے روح القدس پا کر کھڑا نہ ہو، اس وقت تک سب مل کر کام کریں۔جب روح القدس سے تائید یافت شخص کو خدا تعالیٰ کھڑا کر دے تو پھر اس کی اتباع آپ کے نام پر بیعت کے ذریعہ ہو۔یعنی وہ شخص آپ کا خلیفہ ہے اور آپ کے ظل میں خدا تعالیٰ کا قائم کردہ اور روح القدس سے تائید یافتہ ہے۔وہ آپ ہی کے نام پر آپ ہی کے کام کے لئے بیعت لے گا۔اسے قائم کرنے کی خدا تعالیٰ کی غرض وہی ہے جو حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کی بعثت کی تھی۔یعنی وہ بنی نوع انسان کو <mark>دین</mark> واحد پر جمع کرنے پر مامور ہے۔پس آپ کے بعد یہ خلافت راشدہ کا فرض منصبی ہے۔دور مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام اور توحید کے قیام کی <mark>حق</mark>یقت دنیا میں توحید الہی کا علم وہ امام ہوتا ہے جسے خدا تعالیٰ قائم فرماتا ہے۔خانہ کعبہ توحید کا وہ نشان ہے جو ظاہری علامت کی صورت میں ہے۔اس کے <mark>حق</mark>یقی نشان اور مرکز آنحضرت ملی یکم تھے۔جبکہ دیگر انبیاء اپنے اپنے وقتوں، علاقوں اور <mark>قوم</mark>وں میں آنحضرت دم کی ظلیت میں توحید کے نشان اور مرکز تھے اور اس زمانہ میں اور اس دور میں آپ کے ظلت <mark>حق</mark>یقی ، امتی اور آپ کے فیض ، نور اور قوت قدسیہ سے یہ مقام پانے والے حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام تھے۔اسی نسبت سے پھر حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کے ظلت میں آپ کے بعد آپ کے خلفاء اپنے اپنے وقت کے امام ہیں اور توحید کے Symbol) نشان ہیں۔حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کے اس بلند مقام اور قیام توحید پر مشتمل اس مضمون کو سمجھنے کے لئے حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی مجد دالف ثانی (۹۷۱ تا ۱۰۳۴ھ ) کا حسب ذیل پر عرفان بیان ایک رہنما <mark>حق</mark>یقت اور اصل الاصول کی حیثیت کا حامل ہے۔آپ کے اس بیان میں <mark>حق</mark>یقت کعبہ، <mark>حق</mark>یت محمدی، <mark>حق</mark>یقت احمدی اور <mark>حق</mark>یقت عیسوی کا ایک ایسا م<mark>نظر</mark> پیش کیا گیا ہے