خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 88 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 88

۸۷ (۹) قیام توحید قرآن کریم بتاتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کی بنیادی غرض دنیا میں توحید الہی کا قیام ہے۔انہی کے ذریعہ توحید حقیقی سب قوموں میں متعارف،مشتہر اور راسخ ہوئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلّ أُمَّةٍ رَّسُوْلًا أَنِ اعْبُدُوْا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ“ (النحل:۳۷) ترجمہ: اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور بتوں سے اجتناب کرو۔اللہ تعالیٰ کے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی مہم کے ظلت میں اور آپ کی اتباع میں یہی فریضہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی سپر د ہوا۔لیکن اس میں دیگر انبیاء سے ایک امتیاز یہ ہے آپ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی سم کے امتی ہونے کی وجہ سے دیگر تمام انبیاء کے پیرایہ میں مبعوث ہوئے نیز آپ رسول اللہ کے نقش قدم پر تمام دنیا اور اس کی تمام قوموں کو دین واحد پر لانے پر مامور ہیں۔اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے دو نسج پر کام ضروری تھا۔اول یہ کہ تمام مسلمانوں کو ایک مسلک و مذہب میں پرویا جائے اور دوسرے یہ کہ تمام اقوام و ادیانِ عالم کو ایک دین پر جمع کیا جائے۔پہلے منصوبہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ نوید و ہدایت دی کہ: إِنِّي مَعَكَ يَا بْنَ رَسُوْلِ اللهِ۔تمام مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلَى دِيْنِ وَاحِدٍ 66 تذکرہ صفحہ ۵۷۷ ایڈیشن ۱۹۷۷ الهام نومبر ۱۹۰۵ء) کہ اے رسول اللہ ﷺ کے بیٹے! تمام مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں ، دین واحد ( اسلام ) پر جمع کرو۔