خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 36
دو ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلی خلافتیں یا تو خلافت نبوت تھیں جیسے حضرت آدم اور حضرت داؤد علیہما السلام کی خلافت تھی اور یا پھر خلافت حکومت تھیں جیسا کہ فرمایا۔وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْطَةٌ، فَاذْكُرُوا الاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الاعراف: ۷۰) یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ قوم نوح کے بعد خدا نے تمہیں خلیفہ بنایا۔اور اس نے تم کو بناوٹ میں بھی فراخی بخشی یعنی تمہیں کثرت سے اولا ددی پس تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔اس آیت میں خلفاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد صرف دنیوی بادشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمت حکومت ہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل و انصاف کو مد نظر رکھ کر تمام کام کرو۔ورنہ ہم تمہیں تباہ کر دیں گے۔چنانچہ یہود کی نسبت اس انعام کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ تُلُوْ كاوَاتَاكُمْ مَالَمْ يُؤْتِ أَحَداً مِّنَ الْعَلَمِيْنَ (المائدہ:۲۱) یعنی اس قوم کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا۔اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاء کے ماتحت انہیں خلافت نبوت دی اور جَعَلَكُمْ شُلُوکا کے ماتحت انہیں خلافتِ ملوکیت دی۔غرض پہلی خلافتیں دو قسم کی تھیں۔یا تو وہ خلافت ہو ت تھیں۔اور یا پھر خلافت ملوکیت۔پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ تو اس سے یہ استنباط ہوا