خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 411
۴۰۷ اکثریت کا رد عمل اس مصرعہ کے مصداق ہوتا ہے ے ہم سمجھے ہوئے ہیں اُسے جس بھیس میں جو آئے ہاں چند احمق یا روحانی بیمار اور منافق طبع لوگ ضرور ہر بار شیطان کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور قرآن کریم کا یہ پہلا سبق بھول جاتے ہیں کہ سب سے پہلا فریب جو ابلیس نے خود کھایا اور اپنے متبعین کھلایا وہ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ( کہ میں اس سے بہتر ہوں ) کا فریب تھا۔حق پرست اور حق شناس بندگانِ خدا کا امتیازی نشان اَنَا خَيْرٌ مِّنْہ کا دعویٰ نہیں بلکہ " أَنَا أَحْقَرُ الْعِلْمَانَ “ کا اعلان ہوتا ہے۔وہ خود عاجزانہ راہوں پر قدم مارتے ہیں اور دُنیا کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں کہ بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں حقیقت یہی ہے کہ خلفاء کی عظمت، خدا تعالیٰ کے حضور ان کے عجز و انکسار میں مضمر ہوتی دو ہے۔خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کے بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: جو خلیفہ مقررکیا جاتا ہے اس میں دیکھا جاتا ہے کہ اس نے گل خیالات کو جمع کرنا ہے۔اس کی مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے۔ممکن ہے کسی ایک بات میں دوسرا شخص اس سے بڑھ کر ہو۔ایک مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر کے لئے صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ پڑھا تا اچھا ہے کہ نہیں یا اعلیٰ ڈگری پاس ہے یا نہیں ممکن ہے کہ اس کے ماتحت اس سے بھی اعلی ڈگری یافتہ ہوں۔اس نے انتظام کرنا ہے، افسروں سے معاملہ کرنا ہے، ماتحتوں سے سلوک کرنا ہے، یہ سب باتیں اس میں دیکھی جاویں گی۔اسی طرح سے خدا کی طرف سے جو خلیفہ ہوگا اس کی مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے گا۔خالد بن ولید ” جیسی تلوار کس نے چلائی ؟ مگر خلیفہ ابوبکر ہوئے۔آج اگر کوئی کہتا ہے کہ یورپ میں میری فلم کی دھاک بچی ہوئی ہے تو وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔خلیفہ وہی ہے