خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 374
ہیں کہ اس آیت میں جس خلافت کا ذکر کیا گیا ہے وہ خلافت ملوکیت نہیں۔پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کہ ہم ان خلیفوں پر ویسے ہی انعامات نازل کریں گے جیسے پہلے خلفاء پر انعامات نازل کئے تو اس سے مراد یہی ہے کہ جیسے پہلے انبیاء کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی رہی ہے اسی طرح ان کی مدد ہوگی۔پس اس آیت میں خلافت نبوت سے مشابہت مراد ہے نہ کہ خلافت ملوکیت سے۔“ خلافت را شده، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۲۹ تا ۵۳۱) آیت استخلاف میں خلافت روحانی ، خلافت نبوت اور خلافت راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کا ذکر ہے۔اس میں حکومت و ملوکیت کی خلافت کا ذکر نہیں ہے۔ان دونوں اقتباسات میں ملوکیت کی جانشینی اور موت کی جانشینی کونکھار کر الگ الگ کر دکھایا گیا ہے تا کہ نہ تو کوئی ابہام رہے نہ کوئی ظاہری خلافت کی اصطلاح کی آڑ میں کسی کو گمراہ کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر صرف اس قدر ہوتا کہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلحت تو کچھ معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ یہ کن ایمانداروں کا ذکر آیا ہے؟ آیا اس امت کے ایماندار یا گزشتہ امتوں کے اور اگر صرف منكم ہوتا اور الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحت نہ ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ فاسق اور بدکار لوگ بھی خدا تعالیٰ کے خلیفے ہو سکتے ہیں۔حالانکہ فاسقوں کی بادشاہت اور حکومت بطور ابتلا کے ہے نہ بطور اصطفا کے۔اور خدا تعالیٰ کے حقانی خلیفے خواہ وہ روحانی خلیفے ہوں یا ظاہری وہی لوگ ہیں جو متقی اور ایماندار اور نیکوکار ہیں۔“ شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۳، ۳۳۴)