خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 331
۱۳۲۷ تھی۔ہاں اب جو جو بلی ۲۰۰۸ء میں منائی جائے گی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کی مجموعی مدت سو سال پورے ہونے پر منعقد ہوگی۔یہ اپنی الگ حیثیت منفر دنوعیت اور امتیازی شان رکھتی ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اپنے فیصلہ واختیار پر استوار ہے اور لازم وقار وشعار اسلامی اور دیگر مقدس روایات سے مزین ہوگی۔انشاء اللہ العزیز جماعت کی تأسیس پر ایک صدی گزرنے کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے جماعت کے مختلف مواقع اور تقریبات پر چونکہ سو سال پورے ہور ہے ہیں،اس لئے ان مواقع وغیرہ کی مناسبت سے ان کی صد سالہ تقریبات بھی منعقد کی جارہی ہیں۔مثلاً 1991ء میں قادیان میں جلسہ سالانہ کے سو سال منائے گئے۔اسی طرح کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کے بھی سوسال منائے گئے وغیرہ وغیرہ۔اس طرز کی تقریبات کا انعقاد زندہ قوموں کی اعلیٰ روایات میں شامل ہے جن پر کسی معترض کا اعتراض خود اس کی اپنی تنگ دلی اور بخل پر دلالت کرتا ہے۔جماعت احمدیہ کی مومنانہ شان یہ ہے کہ وہ ان با برکت مواقع پر دین خدا کی فتح اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نشانات کی یاد میں دعاؤں کے جلو میں اس کے حضور تشکر وامتنان سے بھرے دل پیش کرتی ہے اور اس کی حمد کے ترانے گاتی ہے۔تاریخ احمدیت شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام مقدس خلفاء کو اور ان کے ادوار خلافت کو اپنی تائید و نصرت کے اعجازی نشانوں کے ساتھ خاص امتیازی شان عطا فرمائی ہے۔چنانچہ یہ جو بلی جو ۲۰۰۸ ء میں ہونا قرار پائی ہے، اس میں خلافت اولیٰ کے دور سے اب تک کے سب ادوار کو جمع کر لیا گیا ہے اور یہ سو سالہ دورِ خلافت بفضلہ تعالی و بتائیدہ کامیاب و کامران مظفر و منصور، مبارک و مسعود، شاہد و مشہود، عامر و معمور ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ خلافت جوبلی اس بنیاد پر منائی جارہی ہے کہ خلافت احمد یہ کے قیام پر سوسال پورے ہورہے ہیں۔اس کے انعقاد کی روح ، طریق اور غرض وہی ہے جو خلافت ثانیہ پر پچیس سال پورے ہونے پر سلور جوبلی منانے کی تھی۔جس طرح اُس وقت قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے اُس جوبلی کے ضمن میں احباب جماعت کے دلی جذبات اور ان کی کیفیات کی ترجمانی میں اظہار فرمایا تھا، بعینہ ۲۰۰۸ء میں منعقد ہونے والی اس صد سالہ جوبلی کے