خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 324
منانے کا معنیٰ یہ ہے کہ خلافتِ اولی کے چھ سالوں کو کلیۂ نظر انداز کر کے جوبلی منائی گئی تھی۔“ اس کے جواب میں عرض ہے کہ خلافت جوبلی کے نام سے جوسلور جوبلی حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے عہد میں منائی گئی ، وہ جماعت میں خلافت کے قیام کو مد نظر رکھ کر نہیں منائی گئی تھی بلکہ خلافت ثانیہ کے پچیس سال پورے ہونے پر منائی گئی تھی۔ہاں اگر وہ خلافت کے قیام کو مد نظر رکھ کر منائی جاتی تو لاز ما ۱۹۳۳ء میں منائی جاتی۔199 ء میں منائی منائے جانے والی جو بلی حضرت طریقہ اسیح الثانی کی خلافت کی سطور جوبلی تھی منہ کہ غلاب احمدیہ کی سلور جوبلی۔چنانچہ تاریخی طور پر اس کا ذکر کرتے ہوئے قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد " تحریر فرماتے ہیں: وو حضرت خلیلة اصبح عالی ۱۴ مار ۱۹۱۳۵ء کو مسند خلافت پر متمکن ہوئے تھے اور اس طرح ۱۳ مارچ ۱۹۳۹ء کو آپ کی خلافت پر ، ہاں کامیاب و کامران مظفر و منصور ، مبارک و مسعود، شاہد و مشہود، عامر و معمور، خلافت پر پچیس سال کا عرصہ پورا ہو گیا۔صداقت اور خدمت کی شان عرصوں اور زمانوں کی قید سے بالا ہے اور اچھے کام کی ایک گھڑی بیکا ر وقت کے ہزار سال سے بہتر۔مگر ان پچیس سالوں کی شان کا کیا کہنا ہے جس کا ایک ایک لمحہ خدمت خلق اور اعلاء کلمۃ اللہ میں گزرا۔جس کی ابتداء نے جماعت احمدیہ کو انشقاق و افتراق کی پُر خطر وادی میں گھرا ہوا پایا مگر جس کی۔انتہاء آج اسے ایک مضبوط اور متحد دستہ کی صورت میں ایک بلند پہاڑ پر دیکھ رہی ہے۔یہ ایک فطری امر ہے کہ محبوب کی کامیابی انسان کے دل میں شکر و امتنان کے جذبات کے ساتھ ساتھ مسرت و انبساط کی لہر بھی پیدا کر دیتی ہے۔اور خدا بھلا کرے چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کا کہ اس لہر نے