خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 275
۲۷۱ بیتاب ہیں تو انہیں چاہئے کہ نبوت کے ذریعہ خدا کی مرضی کے مطابق قائم ہونے والی خلافت کے حصار میں آئیں نہ کہ خدا تعالیٰ کو مجبور کرنے کی کوشش کریں کہ وہ سیاسی بنیادوں پر اختراع کی گئی ، انوار نبوت سے تہی نام نہا د خلافت کی تائید و نصرت کرے۔جہانتک ماضی میں قیام خلافت کے لئے اٹھنے والی تحریکات کا تعلق ہے، تو جیسا کہ پہلے عرض کی گئی ہے کہ وہ ناکامیوں کی گرد سے آئی ہوئی ایک طویل داستان ہے جسے یہاں نہ چھیڑنا ہی بہتر ہے لیکن جو تحریکیں فی زمانہ اُٹھی ہیں ان کا مختصر جائزہ اس لئے پیش کیا جا رہا ہے تا کہ یہ عرفان حاصل ہو سکے کہ وہ خلافت جو آسمان سے قلوب مومنین پر اترتی ہے اور خدا تعالیٰ اسے قائم فرماتا ہے ، وہ کتنی روشن، پر نور اور خدا تعالیٰ کی جناب سے تائید یافتہ ہے اور اس کے برعکس وہ خلافت جو سطح زمین سے ابھرنے کی کوشش کرتی ہے کتنی فتیح، بدشکل اور نا کام ہے۔چنانچہ ملاحظہ فرمائیں۔پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب جو تحریک خلافتِ پاکستان کے داعی اور تنظیم اسلامی کے امیر ہیں اور خلافت کا قیام اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں، لکھتے ہیں : اول دور خود حضور اور خلفائے راشدین کا دور ہے، جسے خلافت علی منہاج النبوۃ کہا جاتا ہے اور قیامت سے پہلے آخری دور میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ کا نظام قائم ہوگا۔اس قول سے یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ حضور نے اسلام کا نظام عدل اجتماعی جس طریقے سے قائم فرمایا تھا صرف اسی طریقے سے اب یہ نظام قائم ہو سکتا ہے۔وہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہر شخص اپنی ذات میں اللہ کا خلیفہ بنے پھر اپنے گھر اور دائرہ اختیار میں خلافت کا حق ادا کرے، اس کا تقاضہ پورا کرے اور جو لوگ یہ دو مرحلے طے کر لیں انہیں بنیان مرصوص بنا کر ایک نظم میں پرو دیا جائے اور پھر یہی لوگ باطل کے ساتھ ٹکرا جائیں، میدان میں آکر منکرات کو چیلنج کریں اور اپنے سینوں میں گولیاں کھائیں کہ :