خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 169
آیت قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: میں رات دن خدا کے حضور چلاتا اور عرض کرتا تھا کہ اے میرے رب میرا کون ناصر و مددگار ہے۔میں تنہا ہوں اور جب دعا کا ہاتھ پے در پے اُٹھا اور فضائے آسمانی میری دعاؤں سے بھر گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری عاجزی اور دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ربّ العالمین کی رحمت نے جوش مارا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مخلص صدیق عطا فرمایا۔۔۔اس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے۔۔۔۔جب وہ میرے پاس آکر مجھ سے ملا تو میں نے اسے اپنے رب کی آیتوں میں سے ایک آیت پایا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ میری اس دعا کا نتیجہ ہے جو میں ہمیشہ کیا کرتا تھا اور میری فراست نے مجھے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندوں میں سے ہے اور میں لوگوں کی مدح کرنا اور ان کے شمائل کی اشاعت کرنا اس خوف سے بُراسمجھتا تھا کہ مبادا انہیں نقصان پہنچائے مگر میں اسے ان لوگوں میں سے پاتا ہوں جن کے نفسانی جذبات شکستہ اور طبعی شہوات مٹ گئی ہیں اور ان کے متعلق اس قسم کا خوف نہیں کیا جاسکتا۔وہ میری محبت میں قسم قسم کی ملامتیں اور بدزبانیاں سہتا اور وطن مالوف اور دوستوں سے مفارقت اختیار کرتا ہے اور میرا کلام سننے کے لئے اس پر وطن کی جدائی آسان ہے اور میرے مقام کی محبت کے لئے اپنے اصل وطن کی یاد بھلا دیتا ہے اور ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض رکت تنفس کی پیروی کرتی ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام ترجمہ عربی عبارت۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۸۱، ۵۸۲)