خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 129
۱۲۷ مقام پر قائم ہو جانے کے لئے پہلے سے ہی مشاق بنانا شروع کر دیا تھا۔چنانچہ حضرت ابوبکر اپنے محبوب آقا و مطاع یم کی جگہ نماز پڑھانے کی وجہ سے نمازوں میں رونے والی کیفیت سے آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی گزر چکے تھے اور امامت کے فریضہ کو ادا کرنے کے لئے مضبوط ہو چکے تھے۔چنانچہ جب آنحضرت سلم کا وصال ہوا تو آپ اللہ تعالیٰ کی اس معیت کے ساتھ جس کا آنحضرت کم آپ سے وعدہ کر چکے تھے ، ایک آہنی چٹان بن کر ہر منفی تحریک اور فتنہ کے سامنے اس طرح کھڑے ہو گئے کہ کوئی طاقت تحریک یا طوفان آپ کے عزم و ارادہ کے آگے ٹھہر نہ سکا۔اپنے محبوب آقائی ایم کے چہرہ کے دیدار کے بعد آپ جب بیت نبوی سے باہر تشریف لائے تو ایک لمحہ میں ہی آپ کے اندر وہ تبدیلی پیدا ہو چکی تھی جو آنحضرت ﷺ کی ذات میں دنیا کو تسخیر کرنے کی طاقت کے طور پر جلوہ گر تھی۔مسجد میں حضرت عمر فاروق یہ اعلان کر رہے تھے کہ آنحضرت ہم ہرگز فوت نہیں ہوئے اور جو شخص یہ کہے گا کہ آپ وفات پاگئے ہیں ، آپ اس کا سر قلم کر دیں گے۔آپ نے مسجد میں آکر جس اعتماد اور وقار کے ساتھ حضرت عمرؓ کو بیٹھ جانے کو کہا اور جس صبر اور اصطبار کے ساتھ اپنے محبّ اور سب کے محبوب کی جدائی کا اعلان کیا ، وہ آپ ہی کی اعجازی ہمت اور امتیازی شان تھی ، جس میں خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا ہاتھ نمایاں رنگ میں جلوہ گر تھا۔چنانچہ اب تحت السماء اور فوق الارض آپ سے بڑھ کر جری، دلیر اور بہادر انسان اور کوئی نہ تھا۔اس وقت جب بیرونی طور پر جھوٹے مدعیان نبوت مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے لئے نعرہ زن تھے اور ارتداد و بغاوت کی چوطرفی آندھیاں سائیں سائیں کرنے لگی تھیں اور اندرونی طور پر کئی وساوس تھے جو عقائد اسلام کو کھوکھلا کر سکتے تھے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک عظیم جرنیل بن کر آنحضرت ﷺ کی صفات کے رنگ لے کر کھڑے ہو گئے اور آنافا نا ہر اندرونی اور بیرونی خطرہ سے اسلام اور مسلمانوں کو نہ صرف بچانے میں کامیاب ہوئے بلکہ آپ نے کاروانِ اسلام کو مزید تیز رفتار کے ساتھ پیش رفت عطا کر دی۔حضرت عائشہ انہی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان فرماتی ہیں کہ : " رسول اللہ علم فوت ہوئے تو میرا باپ ان حالات میں