خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 38
۳۸ نا پسند۔سوائے اس کے کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔اور اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اطاعت اور فرمانبرداری نہ کی جائے۔( صحیح بخاری کتاب الأحکام باب السمع والطاعة لامام ) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ہم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعة الامراء فی غیر معصیة وتحريمها في المعصية ) گویا ایک سچے مومن کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ مامور یا اُس کے خلفاء کی ہدایت سنے اور پھر اطاعت اور عمل کے لئے کمر کس لے۔خلافت اور نظام جماعت کی اطاعت اور ہماری ذمہ داریوں کے تعلق سے زیریں سطور میں خلفائے کرام کے بعض ارشادات ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں جن سے اس موضوع پر کافی وشافی روشنی پڑتی ہے۔وباللہ التوفیق !! حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔اب چونکہ خدا تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے مسلمانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ میں خلافت قائم کی ہے اس لئے میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں کہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھو اور خلافت کے قیام کے لئے قربانیاں کرتے چلے جاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو خلافت تم میں ہمیشہ رہے گی۔خلافت تمہارے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے دی ہی اس لئے ہے تا وہ کہہ سکے کہ میں نے اسے تمہارے