خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 34 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 34

۳۴ احمدی یا افریقہ کے دُور دراز علاقوں میں بسنے والا احمدی ہے۔خلیفہ وقت کو دیکھ کر ایک خاص پیار، ایک خاص تعلق، ایک خاص چمک چہروں اور آنکھوں میں نظر آرہی ہوتی ہے اور یہ صرف اس لیے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت اور وفا کا تعلق، سچا تعلق ہے اور یہ صرف اس لیے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل اطاعت اور محبت کا تعلق ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اس بات کا مکمل فہم و ادراک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جو کل انسانیت کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے نجات دہندہ بنا کر بھیجے گئے اور خلافت احمد یہ آپ تک لے جانے کی ایک کڑی ہے۔اس وحدت کی نشانی ہے جو خدائے واحد کے قدموں میں ڈالنے کے لیے ہمہ وقت مصروف ہے۔پس کیا کبھی ایسی قوم کو ایسے جذبات رکھنے والی روحوں کوکوئی قوم شکست دے سکتی ہے؟ کبھی نہیں اور کبھی نہیں۔اب جماعت احمدیہ کا مقدر کا میابیوں کی منازل کو طے کرتے چلے جانا ہے اور تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔یہ اس زمانے کے امام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی اپنے وعدوں کو جھوٹا نہیں ہونے دیتا۔“ (الفضل انٹر نیشنل۔31 اکتوبر تا 7 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 12) ( تاثرات خلافت احمد یہ صد سالہ جو بلی 2008ء صفحہ 195) یہ خلافت کی برکات کا ایک مجمل خاکہ تھا۔اصل تو یہ ہے کہ ہمارے فہم لا چار ہیں کہ تمام برکات کا احاطہ کر سکیں اور ہماری قلم کوتاہ ہے کہ تفصیل لکھ سکے لیکن منجملہ طور پر ایک حقیقت واشگاف ہے کہ تمام قسم کے فیوض نبوت کے بعد اس حبل اللہ سے وابستہ ہیں۔ہر خیر کا حصول اس سے متعلق ہے۔مومنین اس بات کے مقر ہیں کہ اسی ذریعہ سے استفاضہ ممکن ہے۔واضح رہے کہ برکات خلافت کے حصول کے لئے یہ لا بدی ہے کہ خلافت کی برکات کو یادرکھا جائے۔چنانچہ اس بارہ میں حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں:۔