خلافت حقّہ اسلامیہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 25

خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 19

خلافت حقہ اسلامیہ 19 عبد المنان کی بیعت کریں گے دیکھ لو یہ بھی حضرت عمرؓ سے مشابہت ہوگئی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی ایک شخص نے قسم کھائی تھی کہ ہم اور کسی کی بیعت نہیں کریں گے۔فلاں شخص کی کریں گے۔اس وقت بھی غلام رسول نمبر ۳۵ اور اس کے بعض ساتھیوں نے یہی کہا ہے جب حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے یہ نہیں کیا جیسے مولوی علی محمد اجمیری نے شائع کیا تھا کہ آپ پانچ وکیلوں کا ایک کمیشن مقر ر کریں جو تحقیقات کرے کہ بات کونسی سچی ہے۔حضرت عمر نے ایک وکیل کا کمیشن مقرر نہیں کیا۔اور کہا میں کھڑے ہو کر اس کی تردید کروں گا۔بڑے بڑے صحابہ ان کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا حضور یہ حج کا وقت ہے اور چاروں طرف سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ان میں بہت سے جاہل بھی ہیں۔ان کے سامنے اگر آپ بیان کریں گے۔تو نہ معلوم کیا کیا باتیں باہر مشہور کریں گے۔جب مدینہ میں جائیں تو پھر بیان کریں۔چنانچہ جب حضرت عمرؓ حج سے واپس آئے تو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ممبر پر کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہو کر کہا کہ اے لوگو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کسی نے کہا ہے کہ ابو بکر کی بیعت تو اچا نک واقعہ تھا۔اب اگر عمر مر جائے تو ہم سوائے فلاں شخص کے کسی کی بیعت نہیں کریں گے۔پس کان کھول کر سن لو کہ جس نے یہ کہا تھا کہ ابو بکر کی بیعت اچانک ہوگئی تھی اس نے ٹھیک کہا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس جلد بازی کے فعل کے نتیجہ سے بچالیا۔اور یہ بھی یاد رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص ابو بکر کی مانند نہیں جس کی طرف لوگ دُور دُور سے دین اور روحانیت سیکھنے کیلئے آتے تھے۔پس اس وہم میں نہ پڑو کہ ایک دو آدمیوں کی بیعت سے بیعت ہو جاتی ہے۔اور آدمی خلیفہ بن جاتا ہے کیونکہ اگر جمہور مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص نے کسی کی بیعت کی تو نہ بیعت کرنے والے کی بیعت ہوگی اور نہ وہ شخص جس کی بیعت کی گئی ہے وہ خلیفہ ہو جائے گا بلکہ دونوں اس بات کا خطرہ محسوس کریں گے کہ سب مسلمان مل کر ان کا مقابلہ کریں اور ان کا کیا کرایا اکارت ہو جائے گا حالانکہ ابوبکر کی بیعت صرف اس خطرہ سے کی گئی تھی کہ مہاجرین اور انصار میں فتنہ پیدانہ