خلافت حقّہ اسلامیہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 25

خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 20

خلافت حقہ اسلامیہ 20 ย ہو جائے مگر اس کو خدا تعالیٰ نے قائم کر دیا۔پس وہ خدا کا فعل تھا نہ کہ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ کوئی ایک دو شخص مل کر کسی کو خلیفہ بنا سکتے ہیں۔پھر علامہ رشید رضا نے احادیث اور اقوال فقہاء سے اپنی کتاب الخلافۃ میں لکھا ہے کہ خلیفہ وہی ہوتا ہے جس کو مسلمان مشورہ سے اور کثرت رائے سے مقرر کریں۔مگر آگے چل کر وہ علامہ سعد الدین تفتازانی مصنف شرح المقاصد اور علامہ نووی وغیرہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کا جمع ہونا وقت پر مشکل ہوتا ہے پس اگر جماعت کے چند بڑے آدمی جن کا جماعت میں رسوخ ہو کسی آدمی کی خلافت کا فیصلہ کریں اور لوگ اس کے پیچھے چل پڑیں تو ایسے لوگوں کا اجتماع سمجھا جائے گا اور وہ سب مسلمانوں کا اجتماع سمجھا جائے گا۔اور یہ ضروری نہیں ہوگا کہ دنیا کے سب مسلمان اکٹھے ہوں اور پھر فیصلہ کریں۔اسی بنا پر میں نے خلافت کے متعلق مذکورہ بالا قاعدہ بنایا ہے جس پر پچھلے علماء بھی متفق ہیں۔محد ثین بھی اور خلفاء بھی متفق ہیں۔پس وہ فیصلہ میرا نہیں بلکہ خلفاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور صحابہ کرام کا ہے۔اور تمام علمائے امت کا ہے جن میں حنفی شافعی وہابی سب شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بڑے آدمی سے مراد یہ ہے کہ جو بڑے بڑے کاموں پر مقرر ہوں۔جیسے ہمارے ناظر ہیں اور وکیل ہیں اور قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی مومنوں کی جماعت کو مخاطب کیا گیا ہے وہ مراد ایسے ہی لوگوں کی جماعت ہے نہ کہ ہر فرد بشر۔یہ علامہ رشید کا قول ہے کہ وہاں بھی یہ مراد نہیں کہ ہر فرد بشر بلکہ مراد یہ ہیکہ ان کے بڑے بڑے آدمی ( الخلافته ص ۴۱) پس صحابہ احادیث رسول اور فقہاء امت اس بات پر متفق ہیں کہ خلافت مسلمانوں کے اتفاق سے ہوتی ہے مگر یہ نہیں کہ ہر مسلمان کے اتفاق سے بلکہ اُن مسلمانوں کے اتفاق سے جو مسلمانوں میں بڑا عہدہ رکھتے ہوں۔یا رسوخ رکھتے ہوں۔اور اگر ان لوگوں کے سوا چند او باش مل کر کسی کی بیعت کر لیں تو نہ وہ لوگ مبائع کہلائیں گے اور نہ جس کی بیعت کی گئی ہے وہ خلیفہ کہلائے گا۔(الخلافہ مصنفہ علامہ رشید رضا شامی ثم المصری صفحه ۹ تا ۸۱ ) اب خلافت حقہ اسلامیہ کے متعلق میں قرآنی اور احادیثی تعلیم بھی بتا چکا ہوں اور وہ قواعد بھی بیان کر چکا ہوں جو آئندہ سلسلہ میں خلافت کے انتخاب کیلئے جاری ہوں گے چونکہ انسانی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا نہ معلوم میں اس وقت تک رہوں یا نہ رہوں۔اس لئے میں نے اوپر کا قاعدہ تجویز کر دیا ہے تا کہ جماعت فتنوں سے محفوظ رہے۔