خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 18
خلافت حقہ اسلامیہ 18 غرض جب تک شوری میں معاملہ پیش ہونے کے بعد میں اور فیصلہ نہ کروں اوپر کا فیصلہ جاری رہے گا۔تمہیں خوشی ہو کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت چلی تھی واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارے اندر بھی اسی طرح چلے گی۔مثلاً حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔میرا نام عمر نہیں بلکہ محمود ہے۔مگر خدا کے الہام میں میرا نام فضل عمر رکھا گیا اور اس نے مجھے دوسرا خلیفہ بنا دیا جس کے معنے یہ تھے کہ یہ خدائی فعل تھا۔خدا چاہتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خلافت بالکل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی خلافت کی طرح ہو میں جب خلیفہ ہوا ہوں تو ہزارہ سے ایک شخص آیا۔اس نے کہا کہ میں نے خواب دیکھی تھی کہ میں حضرت عمر کی بیعت کر رہا ہوں تو جب میں آیا تو آپ کی شکل مجھے نظر آئی۔اور دوسرے میں نے حضرت عمر کو خواب میں دیکھا کہ ان کے بائیں طرف سر پر ایک داغ تھا۔میں جب انتظار کرتا ہوا کھڑا رہا آپ نے سرکھجلایا اور پگڑی اٹھائی تو دیکھا وہ داغ موجود تھا۔اس لئے میں آپ کی بیعت کرتا ہوں پھر ہم نے تاریخیں نکالیں تو تاریخوں میں بھی مل گیا کہ حضرت عمرؓ کو بائیں طرف خارش ہوئی تھی۔اور سر میں داغ پڑ گیا تھا۔سونام کی تشبیہ بھی ہوگئی۔اور شکل کی تشبیہ بھی ہوگئی۔مگر ایک تشبیہ نئی نکلی ہے وہ میں تمہیں بتاتا ہوں۔اس سے تم خوش ہو جاؤ گے۔وہ یہ ہے کہ حضرت عمر نے جب اپنی عمر کا آخری حج کیا تو اس وقت آپ کو یہ اطلاع ملی کہ کسی نے کہا ہے۔حضرت ابو بکر کی خلافت تو اچانک ہوگئی تھی یعنی حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔پس صرف ایک یادو بیعت کر لیں تو کافی ہو جاتا ہے اور وہ شخص خلیفہ ہو جاتا ہے۔اور ہمیں خدا کی قسم اگر حضرت عمر فوت ہو گئے تو ہم صرف فلاں شخص کی بیعت کریں گے۔اور کسی کی نہیں کریں گے۔(تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ۶۳ ورساله الخلافة ص ۱۳) جس طرح غلام رسول نمبر ۳۵ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ خلیفہ ثانی فوت گئے تو ہم صرف