خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 23
ہیں جس کے معنے ہیں کہ مجھے علیم وخبیر نے مطلع کیا ہے کہ میرے بعد یکے بعد دیگرے ابو نجر اور عمر مسند خلافت پر متمکن ہوں گے۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شہادت ہے کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں فرمایا کہ اپنے باپ ابو گجر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں کیونکہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تمنا کرنے والے تمنا کریں اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں حقدار ہوں نہ کوئی اور۔مگر پھر اس ارادہ کو آپ نے ترک کر دیا اور فرمایا " وَلَا يَا بَيَ اللهُ والمومِنُونَ الا ابا بكر (صحیح مسلم بحوالہ مشکوۃ باب مناقب ابوبکر صدیق و سیرت حلبیہ جلد ۳ الاسم کہ اللہ اور مومنین ابوبکر صدیق کے سوا دوسرے کی خلافت کا انکار کر دینگے۔ایک بدوی نے چند تلواریں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فروخت کیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا فکر نہ کرو اگر میں اپنی زندگی میں قیمت نہ دے سکا تو میرا قرض ابو جر صدیق ادا کر دیں گے۔(ایضاً (۲۳) ایک عورت نے آنحضرت سے کچھ دریافت کیا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا پھر آنا۔وہ بولی اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں مطلب یہ کہ حضور فوت ہو چکے ہوں تو پھر کیا کروں۔فرمایا :- " اِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَاتِي أَبَا بَكْرٍ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابو بکر صدیق کے پاس آنا۔۲۴۴ دبخاری مصری جلد ۲ ۱۸۵۰۔۱ انبیاء علیہم السلام استعارات اور مجازات سے کام لیتے ہیں۔اسی طرح آنحضرت