خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 9
نے فرمایا ئیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ ابو بجز کو ساتھ لے کر ہجرت کی تیاری کریں اگر ابو نجومہ ہجرت میں رفاقت پسند کریں اور محبت و الفت سے آپ کی مدد کریں اور آپ کے ساتھ قدم ملا کے چلیں تو وہ جنت الفردوس میں آپ کے دیگر تحتین و مخلصین کے ساتھ بلند ترین مقامات پر ہوں گے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر سے پوچھا کہ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میرے ہمسفر ہوں اور آپ کے متعلق یہ جانا جاتے کہ جو کچھ میں دعویٰ کر رہا ہوں آپ ہی مجھے اس پر ابھار رہے ہیں اور پھر میری وجہ سے آپ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہوں۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں قیامت تک بھی زندہ رہوں اور مجھے زندگی بھر ہر طرح کے ایسے ہولناک دکھوں اور عذابوں میں مبتلا کیا جائے کہ جن سے نہ تو موت ہی آکر مجھے آرام پہنچا سکے اور نہ نجات کی کوئی اور راہ مل سکے تو بھی مجھے یہ گوارا ہو گا بشرطیکہ یہ سب کچھ حضور کی محبت و عقیدت کے جرم کی پاداش میں مجھے بھگتنا پڑے۔یا رسول اللہ میں آپ کے قربان جاؤں گھر بار کیا چیز ہیں اگر میں وے زمین کے ان تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہو جاؤں جو حضور کے مخالف ہیں اور مجھے نہایت ہی عیش و عشرت کی زندگی حاصل ہو جائے تو بھی میں اس شہنشاہیت کو پائے استحقار سے ٹھکرا دوں گا اور ہفت تعلیم کی سب بادشاہتوں پر حضور کی غلامی کو ترجیح دوں گا۔یہ سن کر حضرت رسول مقبول نے فرمایا ابو بکیر با ضروری ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے تیرے دل پر اطلاع پا کر، جو کچھ تیری زبان پر جاری ہوا ہے ، اسے تیرے دلی