خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ

by Other Authors

Page 35 of 131

خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 35

مہاجرین میں سے بہتر ہے ہم اُسی کی بیعت کریں گے (کامل ابن اثیر جلد ۲ (۱۳۹۰) مطلب یہ تھا کہ اس منصب کے لئے حضرت ابو بجز سے بڑھ کہ اور کوئی شخص موزوں نہیں۔اس پر پہلے حضرت عمر رض اور پھر حضرت ابو عبیدہ اور سعد بن بشیر خزرجی ان نے اور بعد ازاں دوسرے تمام صحابہ نے حضرت ابوبکر صدیق کے دست مبارک پر بیعت کی۔اس موقعہ پر انصار نے ایثار اور وسعت حوصلہ کی شاندار مثال قائم کی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابو جبر کی بعیت خلافت پر کوئی سوال نہیں اُٹھایا۔اس طرح زمین و آسمان کی وہ عظیم الشان امانت جیسے اُٹھانے کیلئے حضرت ابوبکر کو بہت تائل تھا آخر آپ ہی کے کمزور کندھوں پر ڈال دی گئی ہے آسمان باید امانت نتوانست کشید d قرعه خالی بنام من دیوانه نزدند۔(حافظ شیرازی )۔وہ بوجھ اُٹھا نہ سکے حبس کو آسمان و زمیں اُسے اُٹھانے کو آیا ہوں کیا عجیب ہوں میں مصلح موعود رض) خلاصہ یہ کہ خدا کے وعدوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے میں مطابق تمام صحابہ رسولِ ثانی اثنین کے ہاتھ پر اکٹھے ہو گئے اور خلافتِ صدیقی پر اجماع امت ہو گیا مشجر الاولیاء ملك از سید العابر فین محمد نور خبر القہستانی ) جو دراصل اپنے خدا سے یہ عملی عہد تھا کہ ہم اسلام اور محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔اسلام کی آواز پست