خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 7
جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کی بات کو نیچا اور کبست کر دیا اور اللہ کی بات ہی اونچی اور بلند ہو کر رہتی ہے۔اور اللہ بے حد غالب اور بہت حکمتوں والا ہے۔اس آیت میں جس خوش نصیب وجود صاحب النبی اور خدا کی معیت میں رسُولِ عربی کے ساتھ شامل ہونے والے کا ذکر ہے وہ پوری ملت اسلامیہ کے نزدیک بالاتفاق حضرت ابو بکر صدیق نہیں جن پر (آپ کے بے مثال خلوص، عدیم النظیر ایثار اور قابل رشک فدائیت کے باعث ) خدائے ذو العرش کی نظر انتخاب پڑی اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص وحی اور الہام کی بناء پر ہجرت مکہ کے اضطراب انگیز موقعہ پر اپنا رفیق سفر بنایا ہے ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں یہ مرتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا (حضرت امام محمد مہدی کے والد حضرت امام حسن عسکرہمی کی تفسیر میں بروایت حضرت امام باقر علیہما السلام لکھا ہے:۔" فَإِنَّ الله أولى إِلَيْهِ يَا مُحَمَّدُ۔۔۔اَنَّ اَبَا جَهْلٍ وَ الْمَلَةَ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ دَبَّرُوا يُرِيدُونَ قَتَلَكَ۔وَامُرُكَ اَنْ تَسْتَصْحِبَ اَبَا بَكْرِ فَإِنَّهُ إِنْ أَنَسَكَ وَسَاعَدَكَ وَوَازَرَكَ وَثَبَتَ عَلَى تَعَاهُدِكَ وَتَعَا قُدِكَ كَانَ فِي الْجَنَّةِ مِنْ رُفَقَائِكَ وَفِي عُرَفَاتِهَا مِنْ خُلَصَائِكَ۔۔۔ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ لا بِي بَكْرٍ اَرَضِيْتَ أَنْ تَكُونَ مَعِيَ يَا أَبَا بَكْرٍ