خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 82

خلافة على منهاج النبوة ۸۲ جلد سوم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری زبان یا قلم سے قرآن کریم کے جو معارف بیان کرائے ہیں یا جو اور کوئی کام مجھ سے لیا ہے مجھ سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہ ہوگا اگر میں کہوں کہ یہ میرا کام ہے۔میں جب بھی بولنے کیلئے کھڑا ہوا ہوں یا قلم پکڑا ہے میرا دماغ بالکل خالی ہوتا ہے۔شاید سو میں سے ایک آدھ دفعہ ہی ہو جب کوئی مضمون میرا سوچا ہوا ہوتا ہے ورنہ میرا ذہن بالکل خالی ہوتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ سب کچھ اُسی کا ہے جس کا یہ سلسلہ ہے۔اگر میں اس پر اتراؤں تو یہ جھوٹی بات ہو گی ہاں جو غلطی ہو وہ بے شک مجھ سے ہے۔بھلا ایک انسان جو ظاہری علوم سے بالکل ناواقف اور بے بہرہ ہو وہ ان باتوں کو کیسے نکال سکتا ہے جو شاید آئندہ صدیوں تک اسلام کی ترقی کیلئے بطور دلیل کام دیں گی جیسے تعزیرات ہند ہندوستان کے لئے کام دیتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ غیر احمدی بھی اُن دلائل کو استعمال کر رہے ہیں جو میں نے پیش کئے ہیں۔تمدن کے متعلق اسلامی تعلیم یعنی ترک سود، زکوۃ اور وراثت کا قیام یہ تین نکات والی سہ پہلو عمارت کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ پچھلی صدیوں میں کسی نے تیار کی ہو۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مجھے ہی توفیق دی ہے اور میں نے ان مسائل کو بیان کیا۔پھرا اور سینکڑوں مسائل ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے مجھے سکھائے۔پس یہ سلسلہ خدا کا ہے آدمیوں کا نہیں۔اللہ تعالیٰ ہی اسے بڑھائے گا۔انسانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔صرف ایک بات ہے جسے تمہیں یاد رکھنا چاہئے۔جب تک تمہارے اندر اطاعت اور فرمانبرداری رہے گی وہ نور تم کو ملتا رہے گا۔لیکن جب اطاعت سے منہ موڑو گے اللہ تعالیٰ کہے گا کہ جاؤ اب تو جوان ہو گئے ہوا اپنی جائیداد سنبھا لو۔تب تم محسوس کرو گے کہ تم سے زیادہ کمزور اور کوئی نہیں۔حضرت علیؓ کے بعد بھی مسلمانوں نے فتوحات حاصل کیں۔ملک فتح کئے ، علمی تمدن اور سیاسی غلبے پائے مگر جو برکت، جو رعب ، جود بد بہ اور جو شوکت حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت على رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ کے زمانہ میں تھی وہ تیرہ سو سال میں پھر حاصل نہیں ہوئی۔اُس وقت تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دنیا کے سر پر پاؤں رکھ کر کھڑے ہیں