خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 81

خلافة على منهاج النبوة ۸۱ جلد سوم کوئی بڑا کام کرنے کا موقع نہ ملا تھا اور کوئی تجربہ کار نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم کہتے تھے نورالدین بڑھا ، تجربہ کار اور علم والا تھا آؤ ہم اب اس سے کام لے کر دکھاتے ہیں جو نہ عمر رسیدہ ہے اور نہ عالم۔میرے خلاف تو سب سے بڑا اعتراض ہی یہ تھا کہ بچہ ہے، نا تجربہ کار ہے۔پھر اس بچہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جس طرح شکستیں دی ہیں اور جس طرح ہر میدان میں ذلیل کیا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے اہم اسلامی مسائل کا فیصلہ میرے ذریعہ سے کرایا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔وہ کونسا مسئلہ ہے جو پوشیدہ تھا اور خدا نے میرے ذریعہ سے اسے صاف نہیں کرایا۔کئی معارف چھپے ہوئے موتیوں کی طرح پوشیدہ پڑے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ نکلوایا ہے۔ایک طرف جماعت کی ترقی اور دوسری طرف اسلام کی ترقی کا کام اللہ تعالیٰ نے اس بچہ سے لیا اور اُن مطالب کا اظہار کیا جن سے دنیا فائدہ اُٹھا رہی ہے اور اُٹھاتی رہے گی۔مخالفوں نے کہا دراصل پیچھے اور لوگ کام کر رہے ہیں اور بعض نے کہا کہ مولوی محمد احسن کا جماعت میں رسوخ تھا ان کے ساتھ ہونے کی وجہ سے یہ سب کا رخانہ چل رہا ہے۔اس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب کو ایسا ابتلا آیا کہ وہ لا ہور چلے گئے اور جا کر اعلان کیا کہ میں نے ہی اسے خلیفہ بنایا تھا اور میں ہی اسے معزول کرتا ہوں۔مگر خدا تعالیٰ نے کہا کہ تم کون ہو خلیفہ بنانے والے؟ اور چونکہ تم نے ایسا دعویٰ کیا ہے اس لئے ہم تمہیں قوت عمل سے ہی محروم کرتے ہیں۔چنانچہ اُن پر فالج گر ا پھر وہ قادیان آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اور رو رو کر کہا کہ میرے بیوی بچوں نے مجھے گمراہ کیا ورنہ دل سے تو میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں۔سید حامد شاہ صاحب پرانے آدمیوں میں سے تھے اور بہت کام کرنے والے ، خدا تعالیٰ کی حکمت ہے وہ جلد فوت ہو گئے اُن کو بھی پہلے ابتلا آیا تھا مگر جلد ہی اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہدایت دے دی اور وہ بیعت میں شامل ہو گئے۔ان کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں جو ابتلا میں ہیں اور بجائے سلسلہ کی ترقی کا موجب ہونے کے وہ نفاق کی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں تا خدا تعالیٰ کا جلال دنیا پر ظاہر ہو اور وہ بتا دے کہ وہ خود کام کر رہا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں اور یہ ایک سچائی ہے جس کا اظہار