خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 80

خلافة على منهاج النبوة ہے۔۸۰ جلد سوم کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ لکھنا اور بولنا نہیں جانتے۔اُس وقت تو لوگوں نے بیعت کر لی مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بعض نے کہا یہ ستر ا بہتر ہے، لائی لگ ہے، کمزور طبیعت ہے اور اگر اس مسئلہ کا فیصلہ اس کے زمانہ میں نہ کرایا گیا تو پھر نہ ہو سکے گا کیونکہ یہ تو ڈر جاتا مجھے اچھی طرح یاد ہے حضرت خلیفہ اول نے مسجد مبارک کے اوپر ان کو بلا یا۔مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب کے علاوہ جماعت کے دوسرے دوست بھی بکثرت تھے۔آپ نے فرمایا کہا جاتا ہے کہ تمہارا کام صرف نمازیں پڑھانا ، درس دینا اور نکاح پڑھانا ہے مگر میں نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ میری بیعت کرو تم خود اس کی ضرورت سمجھ کر میرے پاس آئے۔مجھے خلافت کی ضرورت نہ تھی لیکن جب دیکھا کہ میرا خدا مجھے بلا رہا ہے تو میں نے انکار مناسب نہ سمجھا۔اب تم کہتے ہو کہ میری اطاعت تمہیں منظور نہیں۔لیکن یاد رکھو اب میں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں اب تمہاری یہ باتیں مجھ پر کوئی اثر نہیں کر سکتیں۔یاد رکھو خلفاء کے دشمن کا نام قرآن کریم نے ابلیس رکھا ہے۔اگر تم میرے مقابل پر آؤ گے تو ابلیس بن جاؤ گے آگے تمہاری مرضی ہے چاہے ابلیس بنو اور چاہے مومن۔اس پر میری آنکھوں نے ان لوگوں کے چہرے زرد دیکھے ہیں۔جماعت میں اس قدر جوش تھا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ اگر حضرت خلیفہ اول نہ ہوتے تو لوگ شاید ان کو جان سے مار ڈالتے۔پھر میری آنکھوں نے وہ نظارہ بھی دیکھا ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے حکم سے مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب آگے بڑھے اور دوبارہ بیعت کی۔گویا جسے وہ کہتے تھے کہ کمزور دل ہے خدا تعالیٰ نے طاقتوروں کو اُس کے مقابل پر کھڑا کیا ، پھر اُس کمزور دل سے اُن کو شکست دلوائی اور دنیا پر ظاہر کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی وہ کی خود ہی کام کرنے والا تھا۔پھر ان لوگوں نے کہا کہ بڑھا تجربہ کار اور خرانٹ تھا۔تھا تو نرم دل مگر تجربہ کار اور عالم تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے اُس شخص کو چنا جو پرائمری میں بھی فیل ہوتا رہا تھا۔جس نے کبھی کسی دینی مدرسہ میں بھی پڑھائی نہ کی تھی۔صحت کمزور تھی اور عمر صرف ۲۵ سال تھی۔جسے کبھی۔