خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 76
خلافة على منهاج النبوة ۷۶ جلد سوم بعض لوگوں کی رائے تھی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی کا نام تجویز کریں اور اس کیلئے وہ تیار تھے۔مگر ابھی وہ لوگ اُٹھ ہی رہے تھے کہ مولوی محمد احسن صاحب نے خود کھڑے ہو کر میرا نام تجویز کر دیا۔اُس وقت جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا کیونکہ بہت گھبراہٹ اور شور تھا اور سارا مجمع مجھے نظر بھی نہ آتا تھا مولوی محمد علی صاحب نے کچھ کہنا چاہا مگر لوگوں نے اُن کو روک دیا۔میں نے بعد میں سنا کہ انہوں نے یہی کہنے کی کوشش کی تھی کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی خلیفہ ہو مگر ان لوگوں نے جو اُن کے قریب بیٹھے تھے اُن سے کہہ دیا کہ ہم آپ کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اس پر مولوی صاحب مجمع سے اُٹھ کر اپنی کوٹھی میں جہاں اب جامعہ احمد یہ ہے چلے گئے اور ان کے جانے کے بعد تمام جماعت کا رحجان میری طرف ہو گیا۔حالانکہ جیسا مجھے بعض دوستوں نے بعد میں بتایا اُس وقت تک وہ اس کیلئے تیار تھے کہ مولوی صاحب کی بیعت کر لیں۔خدا کی قدرت ہے مجھے بیعت کے الفاظ بھی یاد نہ تھے اور جب لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں تو چونکہ میں چاہتا تھا کہ ابھی ٹھہر جائیں شاید صلح کی کوئی صورت نکل آئے۔میں نے کہا کہ مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں ہیں لیکن مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بھی وہاں موجود تھے وہ اُٹھ کر میرے قریب آگئے اور کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد ہیں میں کہتا جاتا ہوں آپ دُہراتے جائیں۔میں نے اس پر بھی کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی لیکن لوگوں نے شور مچا دیا کہ فوراً بیعت لی جائے۔چونکہ میرا عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے میں نے سمجھ لیا کہ اب یہ خدائی فیصلہ ہے اور میں نے بیعت لینی شروع کر دی اور اُس وقت بیعت لی جبکہ جماعت پراگندگی کی حالت میں تھی ، جبکہ تمام لیڈر مخالف تھے اور جب کہ وہ دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر یہ طریق اختیار کیا گیا تو ہم اُسے کچلنے کیلئے تمام ذرائع اختیار کریں گے۔ماسٹر عبد الحق صاحب مرحوم جنہوں نے قرآن کریم کے پہلے پارہ کا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا وہ پہلے ان لوگوں کے ساتھ تھے مگر بعد میں بیعت میں شامل ہو گئے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہاں سے جا کر مولوی صدر دین صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس پر چالیس مومن اتفاق کریں وہ بیعت لے سکتا