خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 68
خلافة على منهاج النبوة ۶۸ جلد سوم وہ پیچھے ہٹ گیا مگر اس کے نائب نے آگے بڑھ کر اُس کی تلوار لے لی۔تو بہادری اور جرات کے واقعات غیر کے دل پر بھی اثر کر جاتے ہیں۔اگر ہمارے کارکن بھی وہ اطاعت، قربانی اور ایثار پیدا کریں جن کا حقیقی جرات تقاضا کرتی ہے تو دیکھنے والوں کے دل پر جماعت احمدیہ کا بہت بڑا رعب پڑے گا اور ہر شخص یہی سمجھے گا کہ یہ جماعت دنیا کو کھا جائے گی۔اور اگر یہ نہ ہو بلکہ میں خطبے کہتا چلا جاؤں لوگ کچھ اور ہی کرتے جائیں، مبلغین کسی اور رستے پر چلتے رہیں، ناظر اپنے خیالوں اور اپنی تجویزوں کو عملی جامہ پہنانے کی فکر میں رہیں، اسی طرح کارکن ، سیکرٹری، پریذیڈنٹ ، استاد، ہیڈ ماسٹر سب اپنے اپنے راگ الاپتے رہیں اور بندھے ہوئے جانور کی طرح اپنے کیلے کے گرد بار بار پھرتے رہیں تو بتاؤ کیا اس طرح ترقی ہوسکتی ہے؟ خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک سب خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں نا کام ہیں۔میں آج تک جس قدر خطبات دے چکا ہوں انہیں نکال کر ناظر دیکھ لیں کہ آیا وہ ان پر عمل نہ کرنے کے لحاظ سے مجرم ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح محلوں کے پریذیڈنٹ ان خطبات کو سامنے رکھ کر دیکھیں کہ آیا وہ مجرم ہیں یا نہیں ؟ ۱۴ ماہ اس تحریک کو ہو گئے مگر کیا ناظروں ، محلہ کے پریذیڈنٹوں اور دوسرے کارکنوں نے ذرا بھی اُس روح سے کام لیا جو میں ان کے اندر پیدا کرنا چاہتا تھا۔اگر وہ میرے ساتھ تعاون کرتے تو پچھلے سال ہی اتنا عظیم الشان تغیر ہو جاتا کہ جماعت کی حالت بدل جاتی اور دشمن مرعوب ہو جاتا مگر چونکہ وہ اس رنگ میں رنگین نہیں ہوئے جس رنگ میں میں اُنہیں رنگین کرنا چاہتا تھا اس لئے عملی طور پر انہوں نے وہ نمونہ نہیں دکھایا جو انہیں دکھانا چاہئے تھا۔ان کی مثال بدر کے ان گھوڑوں کی سی نہیں جن کے متعلق ایک کافر نے کہا تھا کہ ان گھوڑوں پر آدمی نہیں موتیں سوار ہیں۔بلکہ ان کی مثال حنین کے ان گھوڑوں کی سی ہے جنہیں سوار میدانِ جنگ کی طرف موڑتے مگر وہ مکہ کی طرف بھاگتے تھے کے