خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 67

خلافة على منهاج النبوة ۶۷ جلد سوم یہ بہادر سپاہی اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔چونکہ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ مفتوح فاتح کے سامنے اپنی تلوار پیش کرتا ہے اسی قاعدہ کے مطابق جب اُس ترکی جرنیل نے روسی کمانڈر کے سامنے اپنی تلوار پیش کی تو روسی کمانڈر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ کہنے لگا میں ایسے بہادر جرنیل کی تلوار نہیں لے سکتا۔تو اطاعت اور قربانی اور ایثا ر ایسی اعلیٰ چیزیں ہیں کہ دشمن کے دل میں بھی درد پیدا کر دیتی اور اُس کی آنکھوں کو نیچا کر دیتی ہیں۔انگریزی قوم سے جہاں اچھے واقعات ہوئے ہیں وہاں اس سے ایک بُرا واقعہ بھی ہوا مگر اس کے اندر بھی یہ سبق ہے کہ قربانی اور ایثار نہایت اعلیٰ چیز ہے۔جب نپولین کو انگریزوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور اُس کے اپنے ملک میں بغاوت ہوگئی تو اس نے کہا میں اپنے آپ کو اب خود انگریزوں کے سپر د کر دیتا ہوں۔انگریزوں سے ہی اس کی لڑائی تھی چنانچہ وہ اُسے پکڑ کر انگلستان لے گئے۔جب پارلیمنٹ کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو اُس نے کہا نپولین سے تلوار کیوں نہیں لی گئی ؟ یہ تلوار لینے کا وہی طریق تھا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ مفتوح جرنیل سے فاتح جرنیل تلوار لے لیا کرتا تھا۔جب پارلیمنٹ نے یہ سوال اُٹھایا تو ایک انگریز لارڈ کو اس غرض کیلئے مقرر کیا گیا کہ وہ جا کر نپولین سے تلوار لے آئے۔جب اُس کے سپرد یہ کام کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ میں کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا ایسے بہادر دشمن سے جس نے اپنے آپ کو خود ہمارے حوالے کر دیا ہے تلوار لینا ہماری ذلت ہے۔مگر چونکہ اُس وقت انگریزوں میں بہت جوش تھا اور اُنہیں نپولین کے خلاف سخت غصہ تھا اس لئے بہادری کے خیالات ان کے دلوں میں دبے ہوئے تھے انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا نپولین سے تلوار ضرور لی جائے گی۔پھر انہوں نے اُس لارڈ کے ساتھ ایک ایسے شخص کو کر دیا جو ایسے اعلیٰ اخلاق کا مالک نہیں تھا جن اعلیٰ اخلاق کا وہ لارڈ مالک تھا اور کہا کہ نپولین سے ضرور تلوار لی جائے۔جب وہ نپولین کے پاس پہنچے تو وہ لارڈ نہایت رقت کے ساتھ نپولین سے کہنے لگا میری زبان نہیں چلتی اور مجھے شرم آتی ہے کہ میں آپ کو وہ پیغام پہنچاؤں مگر چونکہ مجھے حکم ہے اس لئے میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ اپنی تلوار ہمارے حوالے کر دیں۔نپولین نے یہ سن کر کہا کیا انگریز قوم جس کو میں اتنا بہادر سمجھتا تھا اپنے مفتوح دشمن سے اتنی معمولی رعایت بھی نہیں کر سکتی ! یہ سن کر اُس لارڈ کی چیخ نکل گئی اور