خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 605
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم میں ہے۔پس چونکہ حاکمانہ قوت جس میں سخت احکام بھی نافذ کرنے پڑتے ہیں عورتوں میں نہیں ہے اس لئے وہ ایسے موقعوں پر کمزوری اور نرمی دکھاتی ہیں جس سے حکومت میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔لہذا عورت کو ناقص العقل والدین کہنے سے شریعت کی مراد یہ ہے کہ وہ سختی اور خشونت سے کام نہیں کراسکتیں جس طرح مرد کرا سکتے ہیں۔یہ ایک فطری کمزوری ہے۔عرض ایک حدیث کا مطلب کیا گیا کہ ایک حدیث میں صاف طور پر آیا ہے کہ إِذَا كَانَ أَمْرُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهُرُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَّكُمْ مِنْ بَطْنِهَا وَإِذَا كَانَ أُمُورُ كُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَّكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا که جب تمہارے معاملات کی باگ ڈور عورتوں کے ہاتھ میں ہو تو تمہارے لئے اس وقت مرجانا بہتر ہے۔فرمایا :۔حدیث نے خود ہی تشریح کر دی ہے کہ عورتیں خود مختار ریس اور بادشاہ نہیں بن سکتیں یعنی اس سے مراد عورت کا بادشاہ ہونا ہے کہ اگر کوئی عورت تمہاری حاکم ہو جائے اور بکلی تمام سیاہ وسفید کی وہی مالک ہو تو اُس وقت حکومت تباہ ہو جائے گی۔اس سے عورتوں سے مشورہ لینے کی نفی کہاں سے نکلی؟ ہاں شوری میں عورت حاکم نہیں ہوسکتی عورتوں کی طرف سے نمائندہ بن کر مشورہ دے سکتی ہے۔چھوٹا دماغ عرض کیا گیا کہ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ عورت کا دماغ مرد کی نسبت فرمایا:۔چھوٹا ہوتا ہے۔دماغ کے چھوٹے اور بڑے ہونے سے اخلاق اور عقل کو کوئی تعلق نہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ہر بڑے دماغ والا ہر بات اچھی کرے۔بعض دفعہ چھوٹی عقل والے بڑا کام کر جاتے ہیں۔پس مشورہ دینے میں عورت کی عقل ہر گز کمزور نہیں مردوں کی طرح عورتیں بھی مشورہ دینے کی اہل ہیں۔