خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 604

خلافة على منهاج النبوة ۶۰۴ جلد سوم وو ناقصات العقل والدین ہونے کا مطلب مجلس عرفان ۴ / دسمبر ۱۹۲۹ء بعد نماز مغرب ) حدیث میں آتا ہے کہ عورتیں ناقصات العقل وَالدِّينِ ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا :۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں میں فطری کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ نبی، امام ، اور خلیفہ نہیں بن سکتیں۔اگر اس کا یہی مفہوم ہوتا جو آجکل سمجھا جاتا ہے کہ عورتیں کم عقل ہوتی ہیں اور دین میں ناقص تو صحابہ کرام رضی الله منظم ازواج مطہرات سے کبھی مشورہ نہ لیتے۔حالانکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دین کا بہت سارا حصہ مروی ہے۔دیکھو حضرت عائشہ نے لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے کیسے اعلیٰ معنی بیان کئے جن سے موجودہ زمانہ کے عظیم الشان مأمور نے بھی فائدہ اٹھایا۔مردوں میں سے جہاں اس بارے میں بڑے بڑے ائمہ اور علماء، فضلاء نے ٹھوکر کھائی وہاں ایک عورت نے ایسی اعلیٰ راہنمائی کی جس سے آج بھی ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔پس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ عورتوں کی عقل ناقص ہوتی ہے اور وہ مشورہ دینے کے قابل نہیں ہوتیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ عورت کا رحم کا پہلو غالب ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مرد کی طرح با اختیار اور خود مختار حاکم نہیں بن سکتی اور نہ نبی اور خلیفہ ہوسکتی ہے۔کیونکہ نبوت اور خلافت میں قوت حاکمانہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو عورتوں میں طبعا کم ہے اس لئے اگر خلیفہ یا بادشاہ بن جائیں تو ایسے مواقع پر جہاں جابرانہ احکام نافذ کرنے کی ضرورت ہو کمزوری دکھا ئیں۔ملکہ وکٹوریہ کے متعلق ثابت ہے کہ جب کسی کو پھانسی وغیرہ کا حکم دینا پڑتا تو اُس وقت نرمی دکھاتی اور انتہائی رحمدلی سے کام لیتی اور یہ بات تمام عورتوں