خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 602

خلافة على منهاج النبوة ۶۰۲ جلد سوم خلافت ماموریت اور خلافت نیابت ایک غیر مبائع نے سوال کیا کہ :۔حضرت صاحب خدا کے مقرر کردہ خلیفہ تھے کیا اسی طرح آپ بھی خدا کے مقرر کردہ خلیفہ ہیں ؟ اگر یہ درست ہے تو حضرت صاحب کی ماموریت میں اور آپ کی ماموریت میں کیا فرق ہے؟ جواب :۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کے مقرر کردہ خلیفہ تھے اور میں بھی خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ ہوں لیکن تقر را الگ الگ قسم کے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تقرر بذریعہ الہام اور وحی کا تھا اور میرا تقرر جماعت کے لوگوں کی زبانوں پر تصرف کر کے۔گویا وہ وحی جلی کے ذریعہ تھا اور یہ وحی خفی کے ذریعہ۔جتنا عظیم الشان فرق وحی جلی اور خفی میں ہوتا ہے اتنا ہی فرق میری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت میں ہے۔حضرت مسیح موعود کی خلافت خلافت ماموریت تھی اور میری خلافت خلافت نیابت ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ایک پٹواری بھی گورنمنٹ کا مقرر کردہ ہوتا ہے اور ایک وائسرائے بھی گورنمنٹ کا مقرر کردہ ہوتا ہے لیکن پھر بھی بڑا فرق ہوتا ہے“۔( الفضل ۴ مارچ ۱۹۲۷ء )