خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 601

خلافة على منهاج النبوة ۶۰۱ جلد سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت خلافت کے جھگڑے کا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں۔انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس کا مطلب وہی ہے جو جانشینوں کا ہوا کرتا ہے۔ہر ایک شخص جس کے سپر د کوئی کام ہوتا ہے وہ اس شخص کا جانشین ہوتا ہے۔جانشین اور قائم مقام کے ایک ہی معنی ہیں۔جانشین کے معنی ہیں کسی کی جگہ بیٹھنے والا اور قائم مقام سے مراد کسی کی جگہ کھڑا ہونے والا۔آگے پھر مختلف حیثیتیں اور عہدے ان کے ہیں۔ایک چپڑاسی بھی گورنمنٹ کا قائم مقام ہے اور ایک تحصیلدار بھی قائم مقام ہے۔سپاہی جس وقت کسی سرکاری کام کیلئے کسی دروازہ پر دستک دے کر یہ کہتا ہے کہ بنام سر کا ر دروازہ کھول دو تو اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے اوپر کوئی اور افسر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں سے ثابت ہے کہ آپ کے بعد اس رنگ میں خلافت کا سلسلہ قائم کیا جائے گا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قائم کیا گیا اور یہ کہ آپ کے خلفاء واجب الا طاعت ہوں گے اور سلسلہ کے حقیقی نمائندے وہی ہوں گے۔جس امر کے متعلق کسی غیر جماعت نے احمدی جماعت سے بحیثیت جماعت فیصلہ کرنا ہے تو ایسے امور کو وہ انہیں خلفاء سے طے کر سکے گی نہ کہ کسی انجمن سے یا اور دوسرے افراد سے۔پس جو بھی انجمن یا افراد سلسلے کے ہوں جن کے سپر د کوئی کام ہو اور وہ کسی دائر عمل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جانشین ہوں تو وہ سب اپنی اپنی جگہ پر ان کے جانشین کہلائیں گے۔مگر سب خلیفہ کے ماتحت ہوں گے اور اس کی رائے اور منشاء کے ماتحت کام کریں گے۔انجمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی آپ کی جانشین تھی۔اگر آپ کی زندگی میں وہ آپ کی اطاعت سے باہر نہیں ہوئی تو آپ کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء کی اطاعت سے باہر نہیں ہوسکتی۔“ الفضل ۲۱ مئی ۱۹۲۵ء)