خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 600
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم مبائعین اور غیر مبائعین میں فرق ” ہم میں اور غیر مبائعین میں فرق یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں خلیفہ کی کوئی ضرورت نہیں اور ہم لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کے احکام کے مطابق ایک خلیفہ ہونا ضروری ہے جو اپنے متبوع کے دائرہ عمل میں اس کے احکامات اور مقاصد کو پورا کرے۔سورۃ نور میں اللہ تعالیٰ ایسے وجودوں کا ہونا ضروری اور اپنے انعامات اور برکات میں سے قرار دیتا ہے اور وہ لوگ جو اس نعمت کو اپنے ہاتھ سے ضائع کرتے ہیں ان کے متعلق فرمایا من كفر بعد ذلِكَ فَاركَ هُمُ الفسقون اصل اختلاف تو یہی ہے۔باقی جب اختلاف پیدا ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ تنافر کی وجہ سے ہر ایک چیز میں اختلاف ہونے لگ جاتا ہے۔اس اختلاف کے نتیجہ میں بعض عقائد میں بھی اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔مثلاً وہ کہنے لگ گئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی نہیں تھے اور ان کا فیصلہ ہر حالت میں ہمارے لئے حجت نہیں۔بلکہ وہی فیصلہ قابل حجت ہے جو کہ وحی سے ہو اور پھر وحی بھی وہی قابل حجت ہے جو زید یا بکر کے خیال کے مطابق ، مطابق قرآن وحدیث ہو جائے۔“ ( الفضل ۲۱ رمئی ۱۹۲۵ء ) النور : ۵۶