خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 581

خلافة على منهاج النبوة ۵۸۱ جلد سوم متفرق قرآن شریف نے خلیفہ کے انکار کا نام فسق رکھا ہے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کو ایک دوست نے خط لکھا جس کے جواب میں حضور نے فرمایا :۔مکرمی ! السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُہ آپ کا خط ملا چونکہ آپ نے نہایت ادب اور محبت سے خط لکھا ہے اس لئے میں خود ہی اس کا جواب لکھتا ہوں۔گو آجکل مجھے بہت کم فرصت ہے لیکن آپ کے اخلاص نے مجبور کیا ہے کہ میں خود ہی آپ کو جواب لکھوں۔(۱) شریعت اسلام کے ہر ایک حکم کا مانا ضروری ہے اور جو شخص ایک حکم بھی تو ڑتا ہے وہ اپنے ایمان میں خود نقص پیدا کرتا ہے اور قرآن شریف نے خلیفہ کے انکار کا نام فسق رکھا ہے اور گومولوی محمد علی صاحب اور ان کے ہم خیالوں نے آیت استخلاف کے اور ہی معنی کر دیئے ہیں لیکن خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب سر الخلافہ اور شہادت القرآن میں یہی معنی کئے ہیں کہ خلیفہ کا انکا رفستق ہے اور فسق کے معنی ہوتے ہیں عہد شکنی۔پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ برحق کا نہ ماننا گناہ ہے ہاں اس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو جا تا بلکہ فاسق مسلمان ہوتا ہے یعنی وہ مسلمان جس نے اللہ تعالیٰ کا ایک عہد عظیم توڑ دیا۔(۲) میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلیفہ ہوں اور انہیں خلفا ء سے ہوں جنہیں خدا مقرر