خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 579

خلافة على منهاج النبوة ۵۷۹ جلد سوم کے دیگر مذاہب اسلام اور احمدیت کے مقابلہ میں ایسے رہ جائیں جیسے ادنی اقوام کے لوگ ہیں۔دنیا میں ہر کہیں لا إله إلا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے پڑھنے والے نظر آئیں اور روس ، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے لوگ جو آج اسلام پر جنسی اُڑا ر ہے ہیں وہ سب کے سب احمدی ہو جائیں، وہ اسلام کو قبول کر لیں اور انہیں اپنی ترقی کے لئے اسلام اور مسلمانوں کا دست نگر ہونا پڑے۔ہم ان ممالک کے دشمن نہیں ہماری دعا ہے کہ یہ ملک ترقی کریں لیکن ترقی کریں اسلام اور مسلمانوں کی مدد سے۔آج تو دمشق اور مصر روس کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کسی طرح اس سے کچھ مددمل جائے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دمشق اور مصر کے مسلمانوں کو پکا مسلمان بھی بنائے اور پھر دنیوی طاقت بھی اتنی دے کہ دمشق اور مصر روس سے مدد نہ مانگے بلکہ روس دمشق اور مصر کو تا ر دے کہ ہمیں سامانِ جنگ بھیجو۔اسی طرح امریکہ ان سے یہ نہ کہے کہ ہم تمہیں مدد دیں گے بلکہ امریکہ شام، مصر، عراق، ایران، پاکستان اور دوسری اسلامی سلطنتوں سے کہے کہ ہمیں اتنے ڈالر بھیجو ہمیں ضرورت ہے ورنہ ہم تو خالص دین کے بندے ہیں اور دنیا سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو چیز ہے وہی ہمیں پیاری ہے۔پس اللہ تعالیٰ اسلام کے غلبہ کی کوئی صورت پیدا کرے۔اور خلافت کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ مسلمان نیک رہیں اور اسلام کی اشاعت میں لگے رہیں یہاں تک کہ اسلام کی اشاعت دنیا کے چپہ چپہ پر ہو جائے اور کوئی غیر مسلم باقی نہ رہے۔اگر یہ ہو جائے تو ہماری غرض پوری ہو گئی اور اگر یہ نہ ہو تو محض نام کی خلافت نہ ہمارے کسی کام کی ہے اور نہ اس خلافت کے ماننے والے ہمارے کسی کام کے ہیں۔ہمارا دوست وہی ہے جو اللہ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے۔وہ خلیفہ ہمارے سر آنکھوں پر جو خدا تعالیٰ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلاتا ہے۔“۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء صفحه ۹ تا ۱۸)