خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 570
خلافة على منهاج النبوة ۵۷۰ جلد سوم انتخاب خلافت کے متعلق ایک ضروری ریزولیوشن سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کے موقع پر آکند و خلافت کے انتخاب کے متعلق یہ بیان فرمایا تھا کہ پہلے قانون تھا کہ مجلس شوری کے ممبران جمع ہو کر خلافت کا انتخاب کریں لیکن آجکل کے فتنہ کے حالات نے اِدھر توجہ دلائی ہے کہ تمام ممبرانِ شوری کا جمع ہونا بڑا لمبا کام ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا کر منافق کوئی فتنہ کھڑا کر دیں اس لئے اب میں یہ تجویز کرتا ہوں جو اسلامی شریعت کے عین مطابق ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب میں مجلس شوری کے جملہ ممبران کی بجائے صرف ناظران صدر انجمن احمد یہ ممبران صدر انجمن احمدیہ، وكلاء تحریک جدید ، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زندہ افراد ( جن کی تعداد اس غرض کیلئے اس وقت تین ہے یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاح حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب میاں عبداللہ خان صاحب ) جامعتہ المبشرین کا پرنسپل ، جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ مل کر فیصلہ کیا کریں۔مجلس انتخاب خلافت کے اراکین میں اضافہ جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے علماء سلسلہ اور دیگر بعض صاحبان کے مشورہ کے مطابق مجلس انتخاب خلافت میں مندرجہ ذیل اراکین کا اضافہ فرمایا۔ا۔مغربی پاکستان کا امیر اور اگر مغربی پاکستان کا ایک امیر مقرر نہ ہو تو علاقہ جات مغربی پاکستان کے امراء جو اس وقت چار ہیں۔۲۔مشرقی پاکستان کا امیر۔کراچی کا امیر۔