خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 568

۵۶۸ جلد سوم خلافة على منهاج النبوة ستحقين پرائیوٹ سیکرٹری کے ماتحت رکھا جائے اور خلافت بجٹ میں اعانت کی ایک مدرکھ دی جائے اور تین ہزار روپیہ سالانہ اس کے لئے رقم رکھی جائے۔ضیافت والی مداُڑا دی جائے اور کار کے اخراجات مثلاً تنخواہ ڈرائیور، پٹرول ، مرمت، لائسنس اور بیمہ وغیرہ کے متعلق اندازہ کر کے ایک رقم معین کر دی جائے۔چوتھی چیز جس پر میں زیادہ زور اور وضاحت سے کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ لائبریری ہے تین ہزار روپیہ اسی مد میں لائبریری کے لئے میں نے رکھوایا تھا۔درحقیقت لائبریری خلافت کا کوئی ذاتی خرچ نہیں بلکہ انجمن کا خرچ ہے اس لئے میں کوئی وجہ نہیں سمجھتا کہ اس کو خلافت کے خرچ کے ماتحت رکھا جائے کیونکہ اس کا بھی حساب ہوتا ہے اور یہ امداد والے حصہ کو میں نے خلافت کے ماتحت اس لئے رکھا ہے کہ اس میں ایک قسم کا اخفاءضروری ہے کیونکہ اس میں زیادہ تر یہی مد نظر ہے کہ وابستگان خلافت اور وابستگان جماعت کی امداد کی جائے اور ان کی دلجوئی کے لیے انہیں کچھ رقمیں دی جائیں اور اس قسم کی امداد کا ظاہر ہونا طبعا لوگ پسند نہیں کرتے اور گو اس صورت میں بھی بہت چھوٹی چھوٹی رقمیں ان کے حصہ میں آئیں گی مگر چونکہ عام طور پر طبائع پر اس قسم کی امداد کا اظہار گراں گزرتا ہے اس لئے خلافت کی مدہی ایسی ہے کہ اس کے ماتحت بغیر دفتر میں سے گزرنے کے دوسرے کی امداد کے لئے رقم دی جاسکتی ہے اور اس شخص کی طبیعت پر بھی گراں نہیں گزرتا لیکن لائبریری کوئی پوشیدہ رہنے والی چیز نہیں وہ پرائیوٹ سیکرٹری کے ماتحت ہونی چاہئے اور گو اس کا نام خلافت لائبریری ہی ہو گا مگر باقی دفاتر کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا حق ہوگا“۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفہ ۷ تا ۹ ) (