خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 554

خلافة على منهاج النبوة ۵۵۴ ا جلد سوم ہے کہ بعض دفعہ باتوں میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے اور نامناسب الفاظ ایک دوسرے کے متعلق استعمال ہونے لگ جاتے ہیں حالانکہ جب خطاب خلیفہ وقت سے ہے تو کسی دوسرے کی بات کو رد کرنا کسی کے حق اور اختیار میں نہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ احباب اس امر کو پھر ذہن نشین کر لیں گے کہ آئندہ جب کبھی بات کہنے کے لئے کھڑے ہوں تو گو دوسرے کی بات کی تردید کریں مگر رہِ خطاب کے طور پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ اصولی طور پر ہونا چاہئے اور ذاتیات کا سوال درمیان میں نہیں لانا چاہئے اور اگر کسی سے غلطی ہوئی ہو تو دوسرے کو نہیں چاہئے کہ اس غلطی کو لمبا کرے۔اگر اس امر کو مدنظر نہ رکھا جائے اور ذاتیات کا سوال درمیان میں لایا جائے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلا ایک بات کہتا ہے اور پھر دوسرا شخص کھڑا ہوتا ہے اور اس کا رد کرتا ہے۔اس کے بعد تیسرا کھڑا ہوتا ہے اور اس کا رد کرتا ہے اور اس طرح آپس میں ہی تکرار شروع ہو جاتا ہے اور اُن آداب کو وہ بھول جاتے ہیں جو خلافت کے لئے ضروری ہیں۔میں ڈرتا ہوں کہ اگر احباب نے اس طریق میں اصلاح نہ کی تو مجھے کسی وقت زیادہ پابندی کے ساتھ اپنی اس بات کو قائم کرنا پڑے گا اور ایسے دوستوں کو مجھے بولنے سے روکنا پڑے گا۔ہم یہاں اس لئے جمع ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں ، اسلام کی ترقی کی تجاویز سوچیں اور ایسی تدابیر عمل میں لائیں جن سے دین کو فائدہ پہنچے۔بھلا اس میں ہماری کیا عزت ہے کہ کہا جائے فلاں کی بات کم عقلی والی ہے لیکن ہماری بات بہت صحیح ہے۔عقل سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے کیونکہ عقل علم کے تابع ہے اور علم خدا تعالی بخشتا ہے۔بے شک عقل انسانی خاصہ ہے اور خدا تعالیٰ کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بڑا عقلمند ہے کیونکہ عقل کے یہ معنی ہیں کہ بُری اور اچھی باتوں کا موازنہ کر کے بُری باتوں سے رُکنا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اچھی اور بُری باتوں کا اندازہ کر کے بُری باتوں سے رُکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی صفات میں علم داخل ہے عقل نہیں۔وہ علیم تو ہے لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عاقل ہے مگر بہر حال عقل علم کے تابع ہے اور جو عقل علم کے تابع نہ ہو وہ عقل نہیں بلکہ جہالت ہوتی ہے۔پس چونکہ عقل علم کے تابع ہے اور علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس لئے اس کے حصول میں کسی کی ذاتی خوبی نہیں ہوتی۔پس