خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 553
خلافة على منهاج النبوة ۵۵۳ جلد سوم آداب خلافت " آج میں پھر اس امر کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری مجلس کوئی پارلیمنٹ (PARLIMENT) نہیں ہے، کوئی لیجسلیٹو اسمبلی (LAGISLATIVE ASSEMBLY) نہیں ہے بلکہ خالص اسلامی مجلس شوری ہے۔یعنی آپ لوگ خواہ جماعتوں کی طرف سے نمائندہ بن کر آئیں ، خواہ مرکز کی طرف سے آپ کو نامزد کیا جائے ، خواہ صدار انجمن احمدیہ کے کارکن ہوں ،خواہ دوسرے لوگ آپ کے اس جگہ جمع ہونے کی محض اتنی ہی غرض ہوتی ہے کہ آپ خلیفہ وقت کو اپنی رائے اور اپنے خیالات سے آگاہ کر دیں پس جبکہ اس مجلس کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ اس میں صرف احباب خلیفہ وقت کے سامنے اپنا مشورہ پیش کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو خطاب گلی طور پر خلیفہ وقت سے ہوتا ہے نہ آپس میں ایک دوسرے سے مگر باوجود بار بار سمجھانے کے دوست ایک دوسرے کو مخاطب کر نے لگ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کا نام لے کر اعتراض کرنے یا جواب دینے لگ جاتے ہیں حالانکہ اس مجلس کے آداب کے لحاظ سے ہر دوست کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت اُس کے سامنے صرف ایک ہی وجود ہے جو خلیفہ وقت کا وجود ہے۔جب تک کوئی نمائندہ اس مجلس میں بیٹھتا ہے اس کو اپنے دائیں اور اپنے بائیں بیٹھنے والے آدمیوں سے ناواقف رہنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ میں ہی اکیلا خلیفہ وقت سے خطاب کر رہا اور اس کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہوں۔مشورے کی غرض بالکل فوت ہو جاتی ہے اگر احباب اس بات کی پابندی نہ کریں اور اُن کے دماغ پر یہ بات مستولی رہے کہ چند دوسرے لوگ ہیں جن کے خیالات کو رد کرنا اُن کا کام ہے۔ان خیالات کو رد کرنا یا نہ کرنا یہ خلیفہ کا کام ہے۔اُن کا محض اتنا ہی کام ہے کہ وہ اپنے خیالات ظاہر کر دیں اور خاموش ہو جائیں۔اس کو مدنظر نہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا