خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 546

خلافة على منهاج النبوة ۵۴۶ جلد سوم آداب مجلس خلافت میں احباب کو اس ادب کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس پر ہر مجلس میں عمل ہونا چاہیئے اور جو کسی مذہب سے متعلق نہیں بلکہ ہر مذہب کے لوگوں کے لئے ضروری ہے مگر بعض دوست اسے بھول جاتے ہیں۔وہ یہ ہے کہ جب مجلس شروع ہو تو آپس میں باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔یہ شکایت کل مجھے اپنے سامنے والے اصحاب سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ان کی طرف سے پیدا ہوئی جو میرے پیچھے بیٹھے ہیں اور جو سلسلہ کے کارکن ہیں۔جب میں تقریر کر رہا تھا تو دو ناظر منٹوں آپس میں بے تکلفی سے باتیں کرتے گئے۔یہ آداب مجلس کے صریح خلاف ہے اور خلاف ورزی کرنے والے صدر انجمن احمدیہ کے ناظر تھے۔وہ نہایت ذمہ داری کے کام پر مقرر ہیں مگر خلیفہ تقریر کر رہا ہے اور وہ اس کی بغل میں بیٹھ کر کوئی ایک بات نہیں بلکہ لمبا سلسلہ گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔گویا گھروں کے جھگڑے اسی وقت طے کرنے بیٹھے ہیں۔یہ شکایت مجھے پہلے بھی پیدا ہوئی تھی اس کی طرف میں توجہ دلاتا ہوں اور اب وضاحت کے ساتھ بتا تا ہوں کہ آئندہ اگر کسی ناظر کے متعلق یہ شکایت پیدا ہوئی تو میں ہدایت جاری کروں گا کہ اسے مجلس شوری سے خارج کر دیا جائے۔اگر کوئی ضروری بات کرنی ہو تو کاغذ پر لکھ کر ، کر لینی چاہئے۔یا اگر چھوٹا سا فقرہ کہہ دیا جائے تو اس کی وجہ سے تقریر میں حرج واقع نہیں ہوتا مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ لمبا سلسلہ گفتگو چلتا ہے“۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء صفحه ۱۲،۱۱)