خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 539

خلافة على منهاج النبوة ۵۳۹ جلد سوم مگر میں صاف طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ کارکنوں کا انتخاب سوائے خلیفہ کے اور کسی کے اختیار میں نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتخاب کارکنان کے متعلق تو مشورہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔خلفاء کے وقت بھی اس کے لئے مشورہ کی پاپندی نظر نہیں آتی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت سارے کہتے رہے کہ حضرت خالد کو معزول نہ کیا جائے مگر انہوں نے ان کی بجائے ابو عبیدہ کو مقرر کر دیا۔کمیشن کا یہ فقرہ کہ ”اصولاً ہمیں یہ درست نہیں معلوم ہوتا کہ انجمن معتمدین صرف ناظروں کی جماعت کا نام ہو۔انجمن معتمدین خلیفہ وقت کی ماتحتی میں سلسلہ کی تمام جائداد کی نگران اور مالک مقرر ہوتی ہے اس واسطے وہ صحیح معنوں میں جماعت کی نمائندہ ہونی چاہئے۔ناظر صاحبان جو جماعت کے ملازمین میں سے ہیں کسی طرح بھی جماعت کے نمائندہ نہیں کہلا سکتے۔ہمارے خیال میں انجمن معتمدین کے ممبران جماعت کے انتخاب سے مقرر ہونے چاہئیں“۔یہ خلافت پر تبر ہے کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے خلیفہ کا انتخاب صحیح نمائندہ جماعت نہیں۔اور اس سے یہ نتائج نکلتے ہیں۔اول یہ کہ مجلس معتمدین سلسلہ کی تمام جائداد کی نگران اور مالک ہے گو خلیفہ کے ماتحت ہے۔ہے (۲) خلیفہ کا ناظر صاحبان کو مجلس معتمدین کے ممبر مقرر کرنا درست نہیں۔(۳) مجلس معتمدین کا انتخاب خلیفہ کی طرف سے نہیں بلکہ جماعت کے انتخاب سے ممبر مقرر ہونے چاہئیں۔اور یہ تینوں نتیجے ہماری خلافت کے متعلق عقیدہ کے خلاف ہیں اور دنیا کی کانسٹی ٹیوشنز کے بھی خلاف ہیں۔کوئی پارلیمنٹ وزراء مقر ر نہیں کرتی مگر کمیشن کہتا ہے کہ مجلس شوریٰ مجلس معتمدین مقرر کرے۔ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے کہ کس طرح انتخاب ہو اور کس طرح وہ ممبران اجلاس کریں۔ممبران کی تعداد کیا ہو اور کتنے عرصہ کے بعد ان کا انتخاب ہو۔کس قدر حصہ نامزدگان کا ہو اور کس قد رمنتخب شدہ کا۔پھر کمیشن کرنا کیا چاہتا ہے۔