خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 538

خلافة على منهاج النبوة ۵۳۸ جلد سوم اور خلفائے راشدین کے وقت نظر آتا ہے۔اسامہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کا سردار مقرر کیا باقی لوگ اس کے خلاف تھے مگر آپ نے کسی کی پرواہ نہ کی۔پھر حضرت عمر نے جب حضرت خالد کو سپہ سالاری سے معزول کیا تو مجلس شوریٰ اس کے خلاف تھی مگر آپ نے وجہ تک نہ بتائی۔دوسرا حصہ خلیفہ کے کام کا اصولی ہے اس کے لئے مجلس شوری سے وہ مشورہ لیتا ہے۔پس مجلس معتمدین انتظامی کاموں میں خلیفہ کی ویسی ہی جانشین ہے جیسے مجلس شوری اصولی کاموں میں خلیفہ کی جانشین ہے۔ان دونوں کا آپس میں سوائے خلیفہ کے واسطہ کے کوئی واسطہ اور جوڑ نہیں ہے۔مگر ہمارے اس کمیشن نے اس بات کو نظر انداز کر کے بعض تجاویز پیش کر دیں جن سے خلافت پر بھی زد پڑتی ہے۔۔کمیشن نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ مجلس مجلس معتمدین کے ممبروں کا انتخاب معتقدین کے تمبر مجلس مشاورت میں سے منتخب کئے جایا کریں۔مجلس معتمدین کے ارکان چونکہ جماعت کے کارکن ہیں اس لئے وہ جماعت کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔جماعت کی اصل نمائندہ مجلس شوری ہے اس میں جلس معتمدین کے ارکان منتخب ہونے چاہئیں۔لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سلسلہ کا اصل ذمہ دار خلیفہ ہے اور سلسلہ کے انتظام کی آخری کڑی بھی خلیفہ ہے۔خلیفہ مجلس معتمدین مقرر کرتا ہے اور وہی مجلس شوری مقرر کرتا ہے۔دونوں مجلسیں اپنی اپنی جگہ خلیفہ کی نمائندہ ہیں۔اگر مجلس معتمدین مجلس شوری کے ماتحت ہو تو اس کا مطلب ہوا کہ خلیفہ مجلس شوری کے فیصلہ کا پابند ہو۔مجلس شوریٰ جو کا رکن مقرر کرے خلیفہ ان سے کام لے حالانکہ کوئی دنیا کی مہذب حکومت ایسی نہیں ہے جس کی پارلیمنٹ وزراء مقر ر کرتی ہو۔اور کمیشن کا یہ ایسا مشورہ ہے کہ دنیا وی حکومتوں کے نام کے بادشاہوں کے حقوق بھی اس کے لحاظ سے محفوظ نہیں رہتے اور ان پر بھی ایسی پابندی نہیں ہے جو کمیشن نے خلیفہ پر عائد کی ہے۔اس بات کا خیال کمیشن کو بھی آیا اور انہوں نے سمجھا کہ اس طرح خلیفہ کے اختیارات پر تو پابندی عائد نہیں کی جا رہی؟ اس وجہ سے انہوں نے یہ لکھ دیا کہ مجلس مشاورت میں مجلس معتمدین کا کس طرح انتخاب ہو ، اس کے متعلق بعد میں غو ر ہو۔۔