خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 537
خلافة على منهاج النبوة ۵۳۷ جلد سوم صوفیاء کی اصطلاح میں اسے حفاظت صغری کہا جاتا ہے اور قرآن کریم میں آتا ہے وليمَكنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِی ارتضى لَهُمْ ے اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی رضا مندی ان کی زبان پر جاری کرتا ہے اور اسے ان کے ذریعہ دنیا میں قائم کرتا ہے۔یہ خلافت کے متعلق ہمارا عقیدہ ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ سوائے ان اموال کے جو وقتی ضروریات کے لئے آتے ہیں باقی سب اموال خدا تعالیٰ کے ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ خلیفہ کے پاس جو ا موال آتے ہیں وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کہ پبلک کے اموال گورنمنٹوں میں جمع ہوتے ہیں۔زکوۃ اور صدقہ ایسے اموال ہیں جو محض خدا کے لئے دیئے جاتے ہیں۔انہیں جو شخص اس لئے دیتا ہے کہ اس کی مرضی سے خرچ ہوں وہ خدا تعالیٰ کے لئے نہیں دیتا بلکہ اپنے لئے دیتا ہے۔جو خدا تعالیٰ کے لئے عشر ، زکوۃ اور صدقہ دیتا ہے وہ مال اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے جس کا محافظ رسول اور پھر خلیفہ ہوتا ہے۔ہاں آگے اس کے لئے یہ رکھا کہ وہ مشورہ لے مگر جس طرح چاہے خرچ کرے اس پر کوئی اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔جب ایک موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غنیمت کے متعلق انصار میں سے کسی نے اعتراض کیا کہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن مال دوسروں کو دے دیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اب انصار کو دنیا میں کسی بدلہ کی اُمید نہیں رکھنی چاہئے ان کی خدمات کا بدلہ قیامت میں ہی ملے گا سکے چنانچہ دنیا میں انصار کو حکومت نہ ملی اور دوسروں نے آکر اُن پر حکومت کی کیونکہ ان میں سے کسی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جو قول منہ سے نکالا تھا اسے خدا تعالیٰ نے ناپسند کیا۔تو یا درکھنا چاہئے مجلس شوری جماعت احمدیہ کی جماعت کا ذمہ دار خلیفہ ہے ایگزیکٹو (EXECUTIVE) باڈی نہیں ہے۔اسی بناء پر ہما را غیر مبائعین سے اختلاف ہوا تھا کہ وہ خلیفہ کی بجائے انجمن کو جماعت کا ذمہ دار قرار دیتے تھے حالانکہ تولیت خلیفہ کی ہے۔آگے خلیفہ نے اپنے کام کے دو حصے کئے ہوئے ہیں۔ایک حصہ انتظامی ہے اس کے لئے عہدہ دار مقرر کرنا خلیفہ کا کام ہے۔ان کارکنوں پر مجلس شوری کی کوئی حکومت نہیں ہے۔یہ طریق عمل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم