خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 536

خلافة على منهاج النبوة ۵۳۶ جلد سوم وہ میں دینے کیلئے تیار ہوں لیکن اگر خلافت مذہبی مسئلہ ہے تو کس طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ میں اسے قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤں گا۔دینی لحاظ سے تو ایک شعشہ کم کرنا بھی کفر ہے۔پس میں یہی کر سکتا ہوں کہ وہ مجھے سمجھائیں ، میں انہیں سمجھا تا ہوں ، پھر جس کی بات حق ثابت ہوا سے مان لیا جائے۔تو خلافت کا مسئلہ ایک مذہبی مسئلہ ہے اور مذہب کا جزو ہے اور حق یہ ہے کہ خلیفہ قائم مقام ہوتا ہے رسول کا اور رسول قائم مقام ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا۔اللہ تعالیٰ نے بعض احکام دے کر اس کے بعد رسول کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں دوسروں سے مشورہ لے کر فیصلہ کرے۔پھر لوگوں کو اس بات کا پابند قرار دیا ہے کہ جو فیصلہ رسول کرے اسے بغیر چوں و چرا کے تسلیم کریں۔اس پر اعتراض کر کے پیچھے رہنے کا کسی کو حق نہیں دیا۔اسی طرح خلیفہ کو حق دیا ہے کہ مشورہ لے اور پھر فیصلہ کرے۔دنیا وی مجالس مشاورت میں تو یہ ہوتا ہے ان میں شامل مجلس شوریٰ کا منصب ہونے والا ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ چاہے میری بات رد کر دو مگر سن لو۔لیکن خلافت میں کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں خلیفہ کا ہی حق ہے کہ جو بات مشورہ کے قابل سمجھے اس کے متعلق مشورہ لے اور شوریٰ کو چاہئے کہ اس کے متعلق رائے دے۔شوریٰ اس کے سوا اپنی ذات میں اور کوئی حق نہیں رکھتی کہ خلیفہ جس امر میں اس سے مشورہ لے اس میں وہ مشورہ دے۔سوائے اس حق کے کہ وہ پہلے خلیفہ کی وفات پر نئے خلیفہ کا انتخاب کر سکتی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تو تحدید کر دی تھی کہ ان کے بعد چھ آدمی جسے خلیفہ منتخب کریں وہ خلیفہ ہو۔ہم نے ان کی نقل کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وفات کے بعد مجلس شوریٰ رائے عامہ اور شریعت کے احکام کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں شخص خلیفہ ہو۔تا اللہ تعالیٰ کی آواز اس کی زبان پر جاری ہو کر دنیا میں پھیلے۔یہ مجلس شوری کی حیثیت ہے۔اس کے سوائے خلیفہ کے کاموں میں اسے کوئی دخل حاصل نہیں۔یہ ہوسکتا ہے کہ ذاتی معاملات میں خلیفہ سے غلطی ہو جائے لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہو ان میں اگر اس سے غلطی سرزد ہو تو اللہ تعالیٰ جماعت کی حفاظت کرتا ہے اور الہام یا کشف سے اس غلطی پر مطلع کر دیتا ہے۔