خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 535

خلافة على منهاج النبوة ۵۳۵ جلد سوم اب بعض دوستوں نے مجھ سے شکایت کی کہ خلافت کا مسئلہ بعض لوگوں پر مخفی ہو رہا ہے اور وہ اس کی حقیقی اہمیت سے ناواقف ہوتے جا رہے ہیں۔کمیشن کی رپورٹ سے ظاہر ہو گیا کہ فی الواقعہ بعض لوگوں پر یہ مسئلہ مخفی ہو رہا ہے اس وجہ سے وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی ضرورت ہوئی۔میں صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں اختلاف رکھنے والے کسی شخص سے ہمارا اتحاد نہیں ہو سکتا۔خواہ وہ ہمارا بھائی ہو یا بیٹا یا کوئی اور قریبی رشتہ دار۔اگر جماعت ہمارا ہوسکتا۔ہویا یا اور کا کوئی فرد اس میں اختلاف رکھتا ہو تو اسے دیانتداری کے ساتھ علیحدہ ہونا چاہئے اور اپنے لئے الگ نظام قائم کر لینا چاہئے۔اس وجہ سے ہم اسے بُرا نہ سمجھیں گے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم میں رہتے ہوئے خلافت تسلیم کرتے ہوئے پھر اس میں اختلاف کرے۔ہمارے اس عقیدہ کی بنیاد یہ ہے کہ جس کو خلیفہ تسلیم کیا گیا ، جس کی بیعت کی گئی اُس کی اسی طرح اطاعت کرنی چاہئے جس طرح شریعت نے ضروری قرار دی ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کسی غلط فہمی کی وجہ سے خلافت کو تسلیم کیا اور خلیفہ کی بیعت کی تھی تو وہ تو ہماری طرف سے آزاد ہے وہ جس وقت چاہے الگ ہو سکتا ہے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں نہ ہم اسے بُرا سمجھیں گے۔غیر مبائعین کو ہم اس لئے بُرا نہیں سمجھتے کہ وہ خلافت سے الگ ہو گئے بلکہ اس لئے بُرا قرار دیتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں ورنہ میں تو انہیں بھی اپنا بھائی سمجھتا۔پس پہلی بات جو اس وقت میں بتانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ خلافت کوئی سیاسی نظام نہیں بلکہ مذہب کا جزو ہے۔میں اس وقت اسے مذہب کا جزو ثابت کرنے کے لئے دلائل میں نہیں پڑوں گا۔کوئی اسے غلط کہہ دے مگر ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن نے مقرر کیا ہے کہ خلیفہ ہو اس لئے یہ مذہبی مسئلہ ہے۔میں اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کے لئے تیار نہیں۔میرا خیال ہے ایک دفعہ خان صاحب ذوالفقار علی صاحب غیر مبائعین کی طرف سے پیغام لائے تھے کہ آپس کا اختلاف دور کر دینا چاہئے۔میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر کسی دنیوی بات پر اختلاف ہے تو میں اسے چھوڑنے کے لئے تیار ہوں، اگر کسی جائداد کے متعلق اختلاف ہے تو