خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 531

خلافة على منهاج النبوة ۵۳۱ جلد سوم پس اس مجلس کی ممبری بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے با دشاہ کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا۔اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گے پس ضرورت ہے کہ جماعت اس کی اہمیت کو اور زیادہ محسوس کرے اور ضرورت ہے کہ سال میں دود فعہ ہو تا کہ زیادہ مسائل پر غور کیا جا سکے۔( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۱۴، ۱۵) دوسرے سوال کے متعلق وو سوال کرنے کی اجازت دینا خلیفہ کا کام ہے بولنا اور سوال کرنے کی اجازت دینا چونکہ خلیفہ کا کام ہے اس لئے اس قسم کی سٹرائیک نہیں کرنی چاہئے کہ اگر جواب دینے کے بعد پھر بولنے کی اجازت نہ ہو تو پھر سوال پیش ہی نہ کئے جائیں۔ان کو سوالات پیش کرنے چاہئیں تھے اور پھر ان کے متعلق مزید گفتگو کرنے کیلئے درخواست کرنی چاہئے تھی کہ اجازت دی جائے۔اگر مناسب ہوتا تو میں اجازت دے دیتا اور مناسب نہ ہوتا تو نہ دیتا۔اس طرح وہ بھی خوش ہو جاتے اور سوالات سے جو بہت سے فائدے حاصل ہو جاتے ہیں وہ بھی حاصل ہو سکتے۔پس یہ کہنا کہ اگر لمبی گفتگو کی اجازت نہ ہو تو سوالات بھی پیش نہ کئے جائیں یہ درست نہیں تھا“۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحہ ۳۱ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طر یق تھا کہ جب آپ مجلس میں بیٹھتے تو استغفار پڑھا کرتے استغفار کیوں پڑھتے تھے تھے اور حدیث میں آتا ہے۔دفعہ استغفار پڑھتے تھے یا اس کی غرض وہ نہ ہوتی تھی جو سوئے ادبی سے لوگ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے دل پر مجلس میں بیٹھنے سے زنگ لگتا تھا اسے دور کرنے کے لئے استغفار پڑھتے تھے۔جسہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے تو پھر آپ کے دل پر زنگ لگانے والا کون ہو سکتا تھا۔لیکن یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زنگ کا ذکر فرمایا ہے مگر یہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر زنگ لگتا تھا بلکہ اس لئے پڑھتے تھے کہ دوسروں کے دلوں پر زنگ نہ لگے اور خدا تعالیٰ انہیں اس سے بچا لے۔اور دوسرے لوگ اس لئے پڑھتے تھے کہ وہ اس زنگ سے بچ جائیں۔