خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 530

خلافة على منهاج النبوة ۵۳۰ جلد سوم مجلس مشاورت اور خلافت کا جوڑ دو میں دیکھتا ہوں کہ مجلس مشاورت جماعت میں بہت اہمیت اختیار کر رہی ہے اور ایسا ہی ہونا بھی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِمَشْوَرَةٍ کہ خلافت بغیر مشورہ کے نہیں اور یہ آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے فرمایا۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ خلافت کا حکم قرآن میں ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے متعلق کوئی حد بندی اپنی طرف سے نہ کر سکتے تھے۔بات یہی ہے کہ خلافت کبھی مفید نہیں ہو سکتی جب تک اس کے ساتھ مشورہ نہ ہو۔تو خدا تعالیٰ کے نزدیک تو مجلس شوری کو پہلے ہی اہمیت حاصل تھی مگر جماعت کی اس طرف کم توجہ تھی۔اب جماعت بھی اس کی اہمیت محسوس کر رہی ہے اور اس دفعہ دو تین جماعتوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ فلاں نمائندہ ہو فلاں نہ ہو۔پہلے یوں کہتے تھے کہ بھئی مجلس مشاورت میں جانے کیلئے کس کو فراغت ہے۔اگر کوئی کہتا مجھے ہے تو اُسے بھیج دیتے مگر اب کے جماعتوں نے نمائندوں کے انتخاب کئے ہیں اور اچھے طریق پر کئے ہیں۔اس بات پر بحث ہوئی ہے کہ کون نمائندہ بن کر جائے ، یہ ایک اچھی روح ہے۔ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری مجلس شوریٰ کی عزت ان بنچوں اور کرسیوں کی وجہ سے نہیں ہے جو یہاں بچھی ہیں بلکہ عزت اُس مقام کی وجہ سے ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک اسے حاصل ہے۔بھلا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اُس لباس کی وجہ سے تھی جو آپ پہنتے تھے۔آپ کی عزت اُس مرتبہ کی وجہ سے تھی جو خدا تعالیٰ نے آپ کو دیا تھا اسی طرح آج بے شک ہماری یہ مجلس شوری دنیا میں کوئی عزت نہیں رکھتی مگر وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب دنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنوں کے ممبروں کو وہ درجہ حاصل نہ ہوگا جو اس کی ممبری کی وجہ سے حاصل ہوگا کیونکہ اس کے ماتحت ساری دنیا کی پارلیمنٹیں آئیں گی۔