خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 528
خلافة على منهاج النبوة ۵۲۸ جلد سوم شریک نہیں ہوں گے“۔چونکہ اب جو تجویز پیش ہے اس میں کمی کا ذکر ہے جو پہلے فیصلہ کے خلاف ہے اس لئے اس حصہ کو منسوخ کرتا ہوں۔باقی چونکہ یہ بھی فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس مشورہ میں خلیفہ شریک نہ ہو اس لئے میں اب نواب صاحب کے ہاں جاتا ہوں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب مجلس کا انتظام کریں گے۔جب اس امر کے متعلق فیصلہ ہو جائے تو مجھے اطلاع دے دی جائے “۔( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء صفحه ۱۴۵ تا ۱۴۷) (حضور کے اس ارشاد کے مطابق محترم چوہدری صاحب کی صدارت میں مجلس کی کارروائی جاری رہی۔فیصلہ ہو جانے کے بعد اطلاع ملنے پر حضور مجلس میں واپس تشریف لے آئے اور فرمایا ) یہ معاملہ جو مجلس کے سامنے پیش ہوا اس کے متعلق میری رائے یہی ہے کہ اس امر کے متعلق فیصلہ جماعت کو کرنا چاہئے۔صحابہ کے زمانہ میں یہی طریق رہا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اب اسے تبدیل کیا جاوے۔یہ سوال کہ خلیفہ کو اس بارے میں اختیا ر ہے پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ کو اختیارات دیئے جاتے ہیں وہاں حد بندی بھی کی جاتی ہے اور ان حد بندیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس معاملہ کو جماعت پر چھوڑا گیا ہے اور جماعت کے فیصلہ کو مقدم رکھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے ۱۹۲۴ء میں اس بارے میں جو فیصلہ کیا تھا اُس میں بیان کر دیا تھا کہ اس کا فیصلہ مجلس شوری کرے۔اس معاملہ میں شوری کا اختیار مشورہ دینے کا نہیں بلکہ خود فیصلہ کرنے کا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ۱۹۲۳ء تک قرضہ کے طور پر بھی بیت المال سے کوئی رقم لینے کی مجھے ضرورت پیش نہ آئی تھی ممکن ہے کبھی کوئی قلیل رقم کی ہو۔بہت سے اخراجات سلسلہ کے متعلق ایسے تھے کہ وہ بھی میں اپنے پاس سے کرتا رہا مگر بعض حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ مجھے قرضہ لینا پڑا۔اس قرضہ کو لئے تین سال ہو گئے ہیں۔اس میں سے بعض رقوم ادا بھی کی گئیں مگر بیشتر حصہ ایسا ہے کہ جو ابھی ادا نہیں کر سکا گو میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ میرے قرضہ کی ذمہ دار میری جائداد ہے مگر میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی زندگی میں ہی