خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 527

خلافة على منهاج النبوة ۵۲۷ جلد سوم تک ہوتے ہیں اور ان میں لائبریری ، امداد غرباء ( بعض ایسے غرباء بھی ہوتے ہیں جن کی مخفی طور پر اپنے پاس سے بھی مدد کرنی پڑتی ہے ) معاملات تمدنی ، دعوتوں اور کئی قسم کے اخراجات شامل ہیں۔ستر ، اسی روپے ماہوار صرف لائبریری اور دفتر کا ہی خرچ ہوتا ہے۔ہدایا کی تعداد عموماً اس رقم سے بھی کم ہوتی ہے۔پس یہ رقم بلکہ اس سے بھی زیادہ تو انہی اخراجات میں خرچ ہو جاتی ہے جو جماعت کی غرض سے خلیفہ کی حیثیت میں خلیفہ کو کرنے پڑتے ہیں۔میرے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی راہیں کھول دی تھیں کہ ان کے ذریعہ پہلے سات آٹھ سال خرچ چلتا رہا مگر اس کے بعد بعض اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے بعض راہیں بند ہو گئیں اور اُس وقت سے ہیں پچیس ہزار روپیہ مجھے قرض لینا پڑا۔ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ بعد کے خلفاء کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔پس میں بھی اب یہ چاہتا ہوں کہ جماعت مناسب غور کے بعد ایک رقم بجٹ میں خلیفہ کے اخراجات کے لئے بھی مقرر کرے۔میں إِنْشَاءَ اللَّهَہ اس رقم کو نہیں لوں گا۔ہاں مجھے یہ فائدہ ہو جائے گا کہ بطور قرض مجھے صدرانجمن احمد یہ سے ضرورت کے موقع پر جو رقم لینی پڑتی ہے وہ میں اس مد میں سے لے کر جب تو فیق ہوا دا کر دیا کروں گا۔اس رقم کے متعلق جو خلیفہ کے لئے مقرر کی جائے میں پسند کرتا ہوں کہ اس کے متعلق یہ قاعدہ ہو جائے کہ ہر سات سال کے بعد اس پر بلا خلیفہ کی تحریک کے مزید غور ہو جایا کرے کیونکہ حالات کے ماتحت اس میں کمی بھی اور زیادتی بھی دونوں ہی کا سوال پیدا ہوسکتا ہے۔۱۹۲۴ء کی مجلس مشاورت میں ایک فیصلہ کیا گیا تھا جو اُس سال کی رپورٹ کے صفحہ ۳۹ پر اس طرح درج ہے۔ہر خلیفہ کے متعلق مجلس شوری فیصلہ کرے کہ اس کو کس قدر رقم گزارے کے لئے ملے گی اور دوران خلافت میں بھی اگر حالات متقاضی ہوں تو مجلس شوری کے لئے ضروری ہوگا کہ اُس رقم کو بڑھا دے۔ضروری ہوگا کہ یہ رقم وقت کی ضروریات اور حالات کے مطابق ہوا اور خلافت کے وقار کو اس میں مدنظر رکھا جائے۔مجلس شوری کو جائز نہ ہوگا کہ بعد میں کبھی اس رقم میں جو مقرر کر چکی ہے کمی کرے۔اس مشورہ کے دوران میں خلیفہ وقت اس مجلس میں