خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 521
خلافة على منهاج النبوة ۵۲۱ جلد سوم بھی غلطی کا امکان نہ ہوتا۔خلفاء اور نبی کی وراثت نبی اجتہاد کی غلطی کرتا ہے۔بحیثیت فقیہ غلطی کر سکتا ہے ، بحیثیت با دشاه غلطی کر سکتا ہے ، لیکن بحیثیت نبی غلطی نہیں کر سکتا اور وہ باتیں جو نبی سے بحیثیت فقیہہ اور بحیثیت حاکم تعلق رکھتی ہیں ، خلفاء ان میں نبی کے وارث ہوتے ہیں۔خلفاء نبی کی ہر بات کے وارث ہوتے ہیں سوائے نبوت کے اور جو احکام نبوت کے سوا نبی کے لئے جاری ہوتے ہیں وہی خلیفہ کے لئے جاری ہوتے ہیں۔اگر نبی ان مسائل میں غلطی کر سکتا ہے تو خلیفہ بھی کر سکتا ہے اور یہ آیت کہ فلا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا رسول کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان حاکم اور گورنر کے لئے بھی ہے اور اس کے ماتحت عمل کئے بغیر دنیا کا کام نہیں چل سکتا۔کیا ہائی کورٹ اور پریوی کونسل غلطی نہیں کر سکتی ؟ کر سکتی ہے اور کرتی ہے۔مگر کیا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے اور لوگ اُسے نہ مانیں؟ بات یہ ہے کہ انسان کا ہر کام نامکمل ہے مگر جب تک بعض نا مکمل با تیں تسلیم نہ کی جائیں دوسری مکمل نہیں ہو سکتیں۔اور جب تک اس نامکمل بات کو تسلیم نہ کیا جائے کہ حاکم غلطی کر سکتے ہیں اُس وقت تک یہ بات مکمل نہیں ہو سکتی اور کبھی فساد دور نہیں ہو سکتا۔بے شک خلفاء غلطی کر سکتے ہیں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ان کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا جائے تو کوئی جماعت جماعت نہیں رہ سکتی۔پس خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے اور تم بھی غلطی کر سکتے ہو مگر فرق یہی ہے کہ خلیفہ کی خطرناک غلطی کی خدا تعالیٰ اصلاح کر دے گا مگر آپ لوگوں سے خدا کا یہ وعدہ نہیں ہے۔“ 66 ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء صفحه ۲۳ تا ۲۵ مطبوعه اکتوبر ۱۹۲۵ء) ابو داؤد کتاب القضاء باب فى قضاء القاضى اذا اخطا صفحه ۵۱۵ حدیث نمبر ۳۵۸۳ مطبوعہ ریاض ۱۹۹۹ء الطبعة الاولى النساء: ٦٦